پنجاب اور انگریزی سرکار

 مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سالوں کی محنت سے کھڑی کی ہوئی سلطنت اسی فوج کے ہاتھوں گرنے کے لئے تیار تھی جو فوج اس کی حفاظت کے لئے بنائی گئی تھی۔خالصہ فوج نے اپنے ہی ملک کو اور ملکی باشندوں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا عام شہریوں کے ساتھ ساتھ خود شاہی خاندان بھی فوج سے تنگ تھا وہ کسی نہ کسی طرح اس فوج سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتےتھے مہارانی جنداں نے خالصہ فوج کو انگریزوں سے لڑوا کر اسے ختم کردیا لیکن اس کے ساتھ سات اپنے تخت وتاج کو بھی خطرہ محسوس ہونے لگا۔

 انگریزوں کو بہانا چاہئیے تھا اور انگریز پنجاب میں داخل ہو گئے۔سب سے پہلے انھوں نے اپنے پیر جمانے کے لئے جو جاگیر دار تھے سرمایہ دار طبقہ تھا ان سے سب کچھ چھین لیا اور اپنی مرضی کے جاگیر دار اور تاجر بنائے۔عام شہری سے لے کر راجے اور نواب سب غنڈے گردانے لگے۔انگریزوں نے ہر شہر ہر قصبے میں پہرے لگوا دئیے یہاں تک کہ دریا سے گزرنے والے راستوں پر بھی انگریز افسر تعینات کئیے۔کسی پہ تھوڑا سا بھی شک ہوتا اسے فوراً  گرفتار کر لیا جاتا۔

انگریز سرکار کی اتنی سختی اور بے رحمی کے باوجود لوگ آزادی کے لئے اس بہادری اور شجاعت سے نکلے کہ ایک وقتمیں انگریز سرکار کو لگا کہ کچھ برا ہو جائے گا لیکن وہی ہوا جو ہندوستان میں صدیوں سے ہوتا آرہا تھا اپنوں کی غداری اور دشمن سے یاری نے آزادی کے متوالوں کے حوصلے پست کر دئیے۔جہاں کہیں لوگ اکٹھے ہوتے وہاں سے خبر سرکار تک پہنچ جاتی۔

جن جن علاقوں کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اس علاقے کے ساتھ انگریزوں کا رویہ بہت برا رہا۔ان علاقوں کی ترقی کے لئے کوئی کام نہ کیا گیا وہاں کاروبار سے لے کر سکول کالج نہ بنائے گئے کوئی ہسپتال نہ بنایا۔صرف ایک افواہ چلائی کی فوج میں بھرتی ہو جاؤ۔آخر کار لوگ بھی تیار ہو گئے کہ اسی میں بھلائی ہے۔

کچھ پنجابی لالچ کی وجہ سے انگریز کا ساتھ دینے لگے اور کچھ مجبور ہو کر۔لیکن دونوں صورتوں میں انگریز کا کام خوب چل رہا تھا۔کیونکہ انگریز ایک پالیسی   لڑاؤ اور حکومت کرو   کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔اور وہ لوگوں کو فرقہ واریت مذہبی جھگڑوں اور نسل پرستی میں الجھانے میں کامیاب رہا جس کے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں۔

انگریز اگر نہ آتے تو ہم کیا ہوتے اور کیا کر رہے ہوتے؟

اگلے بلاگ میں۔۔۔

تبصرے