اشاعتیں

جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی

تصویر
جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی  جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی   چنگیز خان اور تیمور لنگ کی نسل سے ہونے کی وجہ سے  اکبر لڑاکا اور بہادر تھا  چونکہ اس کا خاندان مسلم تھا اور اسے بھی اپنے مذہب سے بہت محبت تھی وہ علماء اور مشائخ کی بہت عزت کرتا تھا اور ان کے ساتھ وقت گزارتا اور ہدایت حاصل کرتا اکبر دن بدن مذہب کے قریب ہوتا چلا گیا اور صوفیوں سے رغبت بڑھاتا گیا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے ملک میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اسی وجہ سے وہ انصاف برابر تقسیم کرتا تھاشاید اسی وجہ سے تمام مہاراجے اس کی اطاعت کرتے ہچکچاتے نہیں تھے۔ اکبر کو جتنی رغبت یا محبت اپنے مذہب سے تھی اتنا ہی احترام وہ دوسروں کا کرتا تھا بات یہاں نہیں ختم ہوتی وہ اپنے دربار میں ہندؤوں کو بھی عہدوں پر فائض کرنے لگا جس کی وجہ سے اس کی عوام اس سے خوش تھی لیکن ایک اور بات اکبر اپنے اباواجداد کی طرح مذہب کے معاملے میں ہلکا پھلکا ہی تھا  جلال الدین محمد اکبر کا دین الہٰی  بات کرتے ہیں اس کے دین الہی کی جو اس نے اپنے درباری علماء کی صحبت میں رہ کر منصوبہ بنایا اس کے پیچھے دو وجو...

ہمارے حالات

 پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اچھا وہ تو سب کو پتہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے حالات ایسے ہی خراب نہیں اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہم خود ذمہ دار ہیں ہم نے شہریوں کے حقوق اور فرائض اس طرح ہی پڑھ رکھے ہیں جیسے مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان ذخائر کی دولت سے مالا مال لیکن ہے کچھ بھی نہیں۔  ہمارے حالات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جو سیدھی اور سچی بات کرے اسے سادا اور شریف کہہ کر پکاتے رہتے ہیں اور جوتیز تراز ہو چالاک ہو اسے ہم حرام کا کہہ کر بلاتے ہیں اگر کوئی الللہ نہ کرے ایسا ہو اگر کسی کا کوئی راز ہمارے ہاتھ لگ جائے یہ میں آپ کو اسلامی ہونے کی بات بتا رہا ہوں تو پھر اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیں گےاور اس سے فائدہ اٹھائیں گے حالانکہ اسلام کے مطابق پردہ پوشی کا حکم ہے۔ہمارے حالات ہمارے حالات ایسے ہی خراب نہیں ہوئے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کٹہرے میں کھڑے شخص سے تو قسم لی جاتی ہے لیکن منصف سے کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ منصف کو بھی قسم دینی چاہئے۔۔تب ہی انصاف مل سکتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں جمہوریہ یعنی عوامی عوام کہاں ہے کدھر ہے عوام ...

پاکستان کے حالات

تصویر
 پاکستان میں آپ کسی سڑک پہ جا رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ دور جانے کے بعد وہ سڑک ختم ہو جائے اور اگر آپ کا گھر کا پانی نالی کے ذریعہ منزل تک پہنچ رہا ہے تو ہو سکتا ہے وہ نالی بند کر دی جائے کیونکہ یہاں لوگ ایک دوسرے رشتہ داری بنانے کے لئے یہ بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیتے رہتے ہیں  پاکستان کے حالات پاکستان کے حالات کو مد نظر رکھتے اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں رہوں تو چند باتیں اپنے ذہن میں باندھ کے رکھ لیں کیونکہ یہاں اکثر لوگوں کے دماغ سے اچھی اچھی باتیں پھسل جاتی ہیں پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ پیٹھ کے پیچھے بات کرنا غیبت ہے اور منہ کے آگے بات کرنا بد تمیزی ہے لہذا یہاں اخلاقیات کو دیکھتے ہوئے چپ رہنا ہی آپ کی صحت کے لئے ضروری ہے ورنہ یہاں ٹیکنالوجی ذیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کا سوفٹ ویئر اپڈیٹ کر دیا جائے گا۔ پاکستان کے حالات اتنے اچھے ہیں کہ کچھ لوگ رات کو آپ کے گھر میں داخل ہو کر آپ کی خدمت گزاری کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور وہ خدمت کے بدلے قیمتی چیزیں ساتھ لے جاتے ہیں اور وہ بھی نہایت تمیز اور اخلاق کے ساتھ بلکہ آپ اپنی خوشی سے انھیں چیزیں لے جانے کو بو...

عمران خان کا سرپرائز

تصویر
 نومبر کا مہینہ اور آرمی چیف کی تعیناتی ان دو باتوں نے پاکستان میں ہیجان پیدا کیا ہوا تھا ایک طرف عمران خان صاحب جو ہمیشہ کی طرح پھر سڑکوں پر ہیں انھوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا اور لاہور سے قافلہ لے کر نکل پڑے اور دوسری جانب لنگڑی لوہلی حکومت بھی تیاری پکڑنے لگی عمران خان نے اپنی طاقت دکھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی لیکن وزیرآباد تھانہ کنجاہ کی حدود میں عمران خان پر حملہ کیا جاتا ہے جس میں ان کی ٹانگ پر تین فائر لگ جاتے عمران خان کا سرپرائز اس واقع پر کافی چہ مگوئیاں کی گئیں لیکن کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ عمران خان کا سرپرائز پھر آیا کہ میں پھر لانگ مارچ کرونگالیکن اس بار عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر لانگ مارچ کی قیادت کریں گے لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا نومبر کا آخری عشرہ شروع ہوا تو ایک بار پھر عمران خان کا سرپرائز آیا کہ میں چھبیس نومبر کو جلسہ کرونگا اور جلسے کی تیاری شروع ہو گئی حکومت کے ساتھ عوام کو بھی انتظار تھا کہ عمران خان کا سرپرائز کیا ہو گا لیکن جلسے میں کوئی خاص بات نہ ہو سکی جلسہ ختم کر کے ہر کوئی اپنے اپ...

پاکستان کی کرکٹ

تصویر
بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ کرکٹ گوروں نے ایجاد کی ہےاور وہی اس کے ماہر ہیں یہ تو حقیقت ہے کہ ایجاد انھوں نے کی ہے لیکن باقی دنیا اس میں مہارت حاصل کر گئی اور آہستہ آہستہ یہ کھیل  مقبول ہوتا گیا اور پھر اس میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں کچھ نئی چیزیں سامنے آئیں اور ایک کرکٹ کے تین فارمیٹ بن گئے پہلا ٹیسٹ کرکٹ جو پانچ دن تک جاری رہتا ہے اور دوسرا ایک روزہ جو پچاس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے کافی عرصہ یہ فارمیٹ چلتے رہے لیکن جیسے ہی نئی صدی کا آغاز ہوا تو کرکٹ میں ایک تیسرا فارمیٹ ٹونٹی ٹونٹی جو کہ بیس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے یہ فارمیٹ پہلے فارمیٹس سے ذیادہ تیز ثابت ہوا۔ نئے دور کی جدیدیت کے ساتھ کرکٹ بھی تیز ہوتی گئی اور اب تو بہت ذیادہ تیز ہو چکی ہے پاکستان کی کرکٹ میں کچھ بہتری آتی گئی اور نئے کھلاڑی آتے گئے اب حاضر وقت میں آسٹریلیا میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جاری ہےاور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے لیکن اس سے پہلے جو میچز پاکستان نے کھیلے ہیں ان میں جو بیٹنگ پہلے دو بلے بازوں نے کی ہے وہ ایسا نہیں لگتا کہ پروفیشنل کرکٹرز ہیںکیا مزاق ہے یار کہ ایک میچ میں بابر اعظم اچھا کھیل جاتا ہے اور دوسرے...

ارشد شریف

تصویر
 پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہور یعنی عوام کی حکومت ہے عوامی حکومت منتخب ہوتی ہے اور عوام کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور عوام بھی اس بات سے کافی ذیادہ مطمئن نظر آتی ہے کیونکہ عوام ان لوگوں کو گھر بھیجنا تو چاہتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے۔صرف گلیوں بازاروں چوراہوں اور بیٹھکوں میں بیٹھ کر بحث کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگتے ہیں اگر وہ آٹا مانگنا شروع کر دیں تو کافی اکٹھا کر لیں وہ ووٹ لینے کے بعد عوام کو بھی مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اور وہی بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگنے والے عوام کو بھکاری بنا دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات اہم ہے کہ ان سیاست دانوں کو کون بلیک میل کرتا ہے کون ہے جو انھیں ڈراتا ہے کون ہے جو انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا اور کون ہےجو انھیں دھمکیاں لگاتا ہے پاکستان میں اکثر ہر کام کا ذمہ دار امریکہ کا ٹھہرایا جاتا ہے کہ امریکہ یہ کر رہا ہے وہ کر رہا ہےلیکن یہ بات اصل معاملے سے رو گردانی اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کافی ہے۔  پاکستان میں سیاسیوں سے ذیادہ حکومت یہاں کے باسیوں نے کی ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ یہاں وہ رہتے ...

پاکستان کے سیاستدان

تصویر
 ہمارے ہاں ایک کہاوت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ اپنے پاؤں پہ آپ کلہاڑی مارنا۔عمران خان ہو یا دوسرے سب نے اپنے پاوں پہ کلہاڑی مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔جو بچہ یا کوئی نوجوان ذیادہ چالاک اور پھرتیلا ہو اسے بزرگ سیاسی کہتے تھےاورآج بھی ہمارے ہاں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔لیکن پاکستان کے سیاستدان اپنے کام کے حوالہ سے چالاک اور پھرتیلے نہیں ہیں وہ صرف ایک کام میں چالاک ہیں وہ کام ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا میڈیا پہ بدزبانی کرنا بس اسی ایک کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان پاکستان کے سیاستدان آج کے ہوں یا پاکستان بنانے والے سب ایک ہی ڈگر پہ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپس میں لڑنا اور گالیاں دینا۔شروع میں آٹھ سالوں میں سات وزیراعظم بدلے گئے اور پھر دوسری مخلوق یعنی خلائی مخلوق کوراستہ ان سیاستدانوں نے دکھایا اور انھوں نے سیاستدانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔آج دنیا پاکستان کی منتخب حکومت پر بھروسہ نہیں کرتی اس کی کیا وجہ ہے ؟ پاکستان کے سیاستدان آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان کبھی ایسا دور نہیں آیا ۔ پاکستان کے سیاستدان اس بات کا فائدہ ان کو ہوا جو صرف تنخواہ ...