محافظ بنے قاتل
محافظ بنے قاتل شروع شروع میں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرتے اور دور بھاگ جاتے تھے ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آئے آپس میں تعلق بنے پیار بڑھا اور مل کر رہنے لگے پھر انسانی فطرت میں ہے کہ لڑتا ضرور ہے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ایک دوسرے سے دوریاں ہو گئیں اور مرنا مرانا شروع ہو گیا۔جیسے جیسے ترقی ہوئی اور انسان نے سوچنا شروع کیا تو پھر انسان نے انسان کو لالچ اور ڈر کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر انسان نے ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے محافظ رکھنا شروع کر دیئے۔اور وہ محافظ حفاظت کے بدلے اجرت لےنے لگے۔ تاریخ میں ایسےکئی محافظ ملتے ہیں جنھوں نے اپنی جان تک گنوا دی لیکن اپنی نوکری اور اپنی ذمہ داری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نےاپنے لالچ کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو بیچ دیا اور جس کی حفاظت کرتے تھے اس کے ہی محافظ بنے قاتل۔ ہندوستان کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کا نام ایسے ہی محافظوں میں درج ہے جنھوں نے چند روپوں یا جاگیروں کے لئے اپنی خودداری اور اپنے لوگوں بلکہ اپنے بادشاہ کی زندگی دشمن ...