اگر انگریز نہ آتے تو؟

👀👩 پنجاب صدیوں سے حملہ آوروں کے حملے برداشت کر رہا تھا جیسے ہی پنجاب میں فصل کی کٹائی ہوتی عین اسی وقت پنجاب پہ حملہ ہوتا اور سب کچھ لٹ جاتا۔حملہ آوروں کے علاوہ جو حکمران بھی آئے وہ بھی صرف لگان لینے کی حد تک تھے عوام کے لئے کچھ نہ کر پائے۔نہ کوئی ہسپتال نہسکول کالج اور نہ کوئی اور محکمہ۔پنجاب کے ساتھ ہمیشہ ظلم اور ذیادتی ہوتی رہی۔۔

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریز سرکار نے پنجاب پر قبضہ کر لیا اور پنجاپ کے سارے مالیہ پر قبضہ کر لیا۔اور خزانے کو جیسے تیسے ہو سکا برطانیہ بھیجتے رہے۔انگریزوں کے یہاں آنے کےہمیں کچھ نقصان اور کچھ فائدے بھی ہوئے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے ہم انگریزوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان دیکھتے ہیں۔

اگر انگریز نہ آتے تو ہندو اور مسلمان کبھی ایک دوسرے کے دشمن نہ بنتے انگریزوں نے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی اور ہندوستانیوں کو آپس میں مذہبی فرقہ واریت نسلیت میں الجھا دیا۔یہ انجان لوگ اس چال کو سمجھ نہ سکے اور آپسی لڑائیوں کا شکار ہو گئے۔ دوسری بات یہ کہ اگر انگریز نہ آتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور نہ یہ کشمیر کا معاملہ شروع ہوتا اور نہ ہم ایک دوسرے کا قتل کرتے۔ انگریزوں کی ہی وجہ سے ہندوستان میں قتل عام کیا گیا۔

سب سے بڑا جو ہمیں نقصان ہوا وہ یہ تھا کہ ہندوستان کی دولت ہندوستان کی شان و شوکت  کوہ نور بھی انگریز اپنے ساتھ لے گئے۔۔

انگریزوں کے آنے کے ہمیں کچھ فائدے بھی ہوئے۔سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہمیں وہ ایک نظام ایک سسٹم دے گئے سکول کالجز ہسپتال اور محکمے ایک انسٹیٹیوشن اور بہت کچھ جو آج ہم استعمال کر رہے ہیں جمہوریت اور جمہوری ادارے اگر انگریز نہ آتے تو ہم  اسی پرانے اور بوسیدہ نظام اور ایک شخص کے حکم کے ماتحت ہوتے۔یہ جدید دنیا ہمیں انگریزوں نے دی ہے


تبصرے