محمد بن قاسم اور راجہ داہر

 بغداد کا گورنر حجاج بن یوسف امویوں کی طرف سے حکومت کر رہا تھا ہماری نصابی کتب کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے ایک مسلم لڑکی کو قید کر رکھا تھا اور اس لڑکی نے ایک خط کے ذریعے حجاج بن یوسف کو اطلاع دی کہ مجھے آزاد کرواؤ۔پھر حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا اور وہ سندھ آئے اور سندھ کو فتح کیا اور لڑکی کو آزاد کروایا پھر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی وجہ سے بر صغیر میں اسلام کے دروازے کھلے۔

محمد بن قاسم اور راجہ داہر

اس کے علاوہ محمد بن قاسم کو جو کہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا بہت عقلمند اور بہادر اور دور اندیش تھا اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے سپہ سالار بنایا گیا

آئیے کچھ تاریخی لمحات پر نظر ڈالتے ہیں حجاج بن یوسف یہ چاہتا تھا کہ میں سندھ کو فتح کروں اور اسی دور میں کچھ سید زادے بھی اپنا وطن چھوڑ کر ان امویوں کے ڈر سے سندھ میں راجہ داہر کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے حجاج جو کہ سیدوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اس نے راجہ داہر سے مطالبہ کیا سید زادے میرے دشمن ہیں لہذا انھیں میرے حوالے کرو لیکن راجہ داہر نے صاف صاف انکار کر دیا اوذ کہا کہ وہ میرے مہمان ہیں اور مہمان دشمنوں کے حوالے نہیں کئے جاتے۔

راجہ داہر کو بہت غصہ آیا اور وہ ہر وقت اسی پریشانی میں رہنے لگا پھر اس نے فیصلہ کیا کہ میں راجہ کے خلاف لڑوں گا اس نے اپنے ایک قریبی ساتھی کی قیادت میں سندھ پر حملہ کیا لیکن وہ مارا گیا اور فوج بغداد بھاگ گئی پھر حجاج نےایک دوسرے ساتھی کی قیادت میں بھیجا لیکن پھر شکست کا منہ دیکھنا پڑا حجاج نے اپنے دو قریبی ساتھی گنوا دئیے اب اس کے پاس کوئی بھروسہ مند آدمی نہیں تھا لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کوسپہ سالار بنا کر بھیجوں یہ فیصلہ اس لئے کیا گیا کہ وہ ایک لڑکا ہے وہ میرے خلاف بغاوت نہیں کرےگا اور فوج بھی اس کے ماتحت رہے گی۔

محمد بن قاسم اور راجہ داہر

اس دفعہ اس نے اس کام کو مذہبی رنگ دینے کے لئے ایک چال چلی اور اپنے علاقے میں اعلان کروا دیئے کہ کافروں کے خلاف جہاد کرنے کا وقت  آ گیا ہے اور اسی وقت اس نے یہ خط والا ڈرامہ رچایا  کہ راجہ داہر کی قید میں ایک مسلم لڑکی ہے اسے آزاد کروانا ہےحالانکہ اس وقت حجاج کی قید میں بہت ساری عورتیں قید تھی لیکن صرف سیدوں کو پکڑ کر مارنے کے لئے اس نے یہ سارا ڈرامہ رچایا پھر اس نے شہریوں سےفوج کی حمایت کی درخواست کی اور سادا لوح عوام بہکاوے میں آ گئے اور عام لوگ بھی جہاد کے لئے فوج میں شامل ہو گئے۔

فوج کو بڑی عزت اور شان کے ساتھ روانہ کیا گیا اور محمد بن قاسم صرف ایک لڑکی کے لئے سندھ کو فتح کرنے آ رہا تھا کیا مذاق ہے۔جو صرف ایک سترہ سال کا لڑکا تھا اور شاید جنگ کو اچھی طرح جانتا بھی نہیں تھا لیکن فوج کے لئے وہ سپہ سالار اسی لئے تھا کیونکہ وہ حجاج کا بھتیجا تھا اور حجاج کے لئے وہ صرف ایک لڑکا تھا جو اس کے خلاف بغاوت نہیں کرے گا۔

اس کے بر عکس راجہ داہر جو کہ اپنی سلطنت سندھ کا راجہ تھا اور اپنی رعایا سے پیار کرنے والا اور سکون کے ساتھ باد شاہت کرنے والا اس نے صرف سیدوں کو پناہ دے رکھی تھی اسی وجہ سے اس پر حملہ کیا گیا۔

ایک بات اور جو عموماعموماً  ہمارے ہاں دیکھنے کو ملتی ہےوہ یہ کہ سندھ میں اسلام محمد بن قاسم کی وجہ سے پھیلا حالانکہ اسلام جو سید سندھ آئے تھے ان کی وجہ سے پھیلا ۔پاکستان میں ہمیشہ غلط کو ٹھیک اور ٹھیک کو غلط لکھا گیا۔

تبصرے