پنجاب ختم ہو رہا ہے

پنجاب ختم ہو رہا ہے

پنجاب ختم ہو رہا ہے

   مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں کشمیر سے سندھ اور دریائے ستلج سے پشاور تک کا سارا علاقہ پنجابی سلطنت کا حصہ تھا اور یہ سلطنت ایک پنجابی باشندے نے اپنی محنت اپنی بہادری اور دور نظری سے کھڑی کی تھی انگریز بھی پنجاب کے ساتھ ٹکرانے سے گھبراتے تھے۔

جب ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوا تب پنجاب کے دو حصے ہو گئے لیکن اس سے پہلے انگریز کشمیر اور پشاور کو پنجاب سے علیحدہ کر چکے تھےاور جاتے جاتے پنجاب کے دو ٹکڑوں کے ساتھ ہندوستان کے بھ دو ٹکڑے کر دئیے۔آدھا پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا اور آدھا ہندوستان کے حصے میں آیا۔

 پنجاب ختم ہو رہا ہے۔۔ہندوستانی پنجاب میں سے تین حصے الگ کر دیئے گئے ہیں ہریانہ چندیگڑھ اور ہماچل پردیش انھیں الگ کر دیا گیا ہے۔اور سکھ باقی پنجاب کو خالستان بنانا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی پنجابی کو گورمکھی مطلب گورو کے منہ سے بولی جانے والی زبان کا نام دے چکے ہیں۔اب اگر خالستان بن جاتا ہے تو پنجاب اور پنجابی ختم ہو جائیں گے۔

پنجاب ختم ہو رہا ہے ۔ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا اور انگلش کو دفتری زبان قرار دیا گیا لیکن مقامی صوبوں میں صوبوں کی زبانیں لاگو نہ کی گئیں۔لیکن کیسے پنجاب ختم ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجابی باشندے پنجابی بولنے سے شرماتے ہیں انھیں اردو بولنا ذیادہ پسند ہے۔پنجاب کا لباس  پنجاب کی رسمیں پنجاب کی تہذیب کہیں گم ہو گئی ہے۔پنجاب ختم ہو رہا

پنجاب ختم ہو رہا ہے

ایک بات اور کہ پاکستانی پنجاب میں بھی کچھ فتنے سر اٹھا رہے ہیں بلکہ اب تو وہ مطالبات بھی کر رہے ہیںان میں سرائیکی پیش پیش ہیں وہ پنجاب کو تقسیم کر کے سرائیکستان بنانا چاہتے ہیں پنجاب ختم ہو رہا ہے اس بات میں کتنی سچائی ہے آپ اپنے آس پاس پنجابیوں سے پتہ کر سکتے ہیں وہ خود بھاگتے ہیں کہ ہمیں کوئی پنجابی نہ بولے۔

پنجاب کے خوبصورت جنگل بیلے اور مال مویشی دریا کھلے میدان اور پنجاب کا لباس پنجابیوں کا رہن سہن بالکل بدل رہا ہےایسا کوئی پنجابی نہیں ہے جس نے جھوٹی ترقی کے نام پر اپنی تہذیب و ثقافت کو چھوڑا نہ ہو۔اور اپنا چھوڑ کے پرائے کے پیچھے نہ گیا ہو۔

تبصرے