محافظ بنے قاتل

محافظ بنے قاتل

 شروع شروع میں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرتے اور دور بھاگ جاتے تھے ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آئے آپس میں تعلق بنے پیار بڑھا اور مل کر رہنے لگے پھر انسانی فطرت میں ہے کہ لڑتا ضرور ہے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ایک دوسرے سے دوریاں ہو گئیں اور مرنا مرانا شروع ہو گیا۔جیسے جیسے ترقی ہوئی اور انسان نے سوچنا شروع کیا تو پھر انسان نے انسان کو لالچ اور ڈر کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر انسان نے ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے محافظ رکھنا شروع کر دیئے۔اور وہ محافظ حفاظت کے بدلے اجرت لےنے لگے۔

تاریخ میں ایسےکئی محافظ ملتے ہیں جنھوں نے اپنی جان تک گنوا دی لیکن اپنی نوکری اور اپنی ذمہ داری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نےاپنے لالچ کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو بیچ دیا اور جس کی حفاظت کرتے تھے اس کے ہی محافظ بنے قاتل۔

ہندوستان کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کا نام ایسے ہی محافظوں میں درج ہے جنھوں نے چند روپوں یا جاگیروں کے لئے اپنی خودداری اور اپنے لوگوں بلکہ اپنے بادشاہ کی زندگی دشمن کے ہاتھوں بیچ دی۔ ٹیپو سلطان جو کہ میسور کے حکمران تھے ان کے سپہ سالار میر جعفر نے غداری کی اور دشمن کو کامیاب ہونے میں مدد دی۔نواب سراج الدولہ کا سپہ سالار میر صادق جس نے دشمنوں کے ہاتھوں بک کر سب کچھ بیچ دیا۔ایسے کئی واقعات تاریخ میں درج ہیں اور آج بھی لوگ انھیں برے لفظوں میں یاد کرتے ہیں

محافظ بنے قاتل

نادر شاہ درانی کا اصل نام علی قلی تھا وہ بھیڑ بکریاں چرا کر گزر بسر کرتا تھا تلوار کا دھنی ہونے کی وجہ سے فوج میں بھرتی ہو گیا بہادری کی وجہ سے فوج کا سالار بن گیا اور شاطر دماغ ہونے کی وجہ سے ایران کے بادشاہ کو مروا کر خود بادشاہ بن گیا اور اپنا لقب رکھا نادر شاہ درانی اور اپنے بادشاہ اور اپنے ملک سے غداری کر کے بادشاہ بن گیا اس میں اس کا لالچ اور بڑا ہونے کی چاہت تھی۔

ہندوستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے سکھوں کا قتل عام کروایا تھا لیکن اس نے سکھ ہی اپنی حفاظت کے لئے رکھے ہوئے تھے  اب سکھوں کے ذہن میں تو تھا کہ اس نے ہمارے بھائیوں کا قتل عام کیا ہے لیکن شاید اندرا یہ بات بھول گئی تھی کہ یہ جو میرے محافظ ہیں یہ بھی سکھ ہیں۔اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا سکھ جو محافظ تھے اور وہی محافظ بنے قاتل۔اور صبع سویرے اندرا جی کو گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا۔

محافظ بنے قاتل میں ایک اور واقع یاد کرتے ہیں جس میں پنجاب  پاکستان کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کی حفاظت کے لئے معمور گارڈ نے گولی کا نشانہ بنایا پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر کام کو لوگ مذہبی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس قتل کو بھی مذہب سے جوڑ دیا گیا۔


تبصرے