ڈر کا کاروبار
انسان ذہنی شعور رکھنے کی وجہ سے مرنے کو نا پسند کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ میں کبھی بھی مروں نا ۔وہ موت کا ڈر پال لیتا ہے اور ہر کام کرنے سے پہلے یا کچھ حاصل کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔اور اسی ڈر کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں وہ اسے دھمکیاں دیتے ہیں مذید ڈراتے ہیں کہ تم مر جاؤ گے یا تمہارا یہ نقصان ہو جائے گا تمہارا گھر تمہارے بچے ختم ہو جائیں گے۔ اور جو بہلے ڈرا ہوتا ہے وہ مذید ڈر جاتا ہے اور اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے کہ میں کہیں مر نہ جاوں۔
![]() |
| ڈر کا کاروبار |

جو لوگ ڈر پیدا کرتے ہیں وہ ڈر کا کاروبار کرتے ہیں ڈرتے وہ بھی ہیں لیکن وہ محسوس نہیں ہونے دیتے اور الٹا ڈر کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈر کا کاروبار بڑھاتے ہوئے پھر وہ لوگوں سے ان کی حفاظت کے بدلے کچھ مانگ کرتے ہیں اور مانگ ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جو یا تو اپنے لئے اہم ہوتی ہے یا پھر دوسرے کی پیاری چیز ہوتی ہے آج کل لوگوں کو پیسوں کی ذیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے لوگ ذیادہ تر پیسے ہی مانگتے ہیں اور اسے پرٹیکشن منی بولا جاتا ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں جو ڈر کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ کس حیثیت سے ڈر بانٹتے ہیں پاکستانی معاشرہ اسلامی معاشرہ ہے جس میں اسلام کا پرچارذیادہ ہوتا ہے اس میں مذہبی لوگ پیش پیش نظر آتے ہیں جوپہلے ڈر بانٹتے ہیں پھر اس کا حل بتاتے ہیں کہ یہ عمل کروگے تو یہ نقصان ہو گا اور اس عمل سے اس سے بچ پاؤگے اور ذیادہ تر صدقہ دینے کا ہی کہا جاتا ہے یا پھر کسی مزار کا رستہ دکھایا جاتا ہے دنیا کے ہر معاشرے میں ہر مذہب کے لوگ یہی طریقہ واردات اپناتے ہیں اور مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
![]() |
| ڈر کا کاروبار |
ڈر کا کاروبار کرنے میں جو دوسرے نمبر پر آتے ہیں وہ جاگیر دار اور سرکاری افسران ہیں دنیا میں شاید ایسا نہ ہوتا ہو لیکن پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے جاگیر دار اپنے علاقے پر ڈر کا کاروبار کرتا ہے اور افسران جہاں ہوں وہیں ڈر کا کاروبار کرتے ہیں۔
آپ نے اکثر ایک جملہ سنا ہو گا کہ پاکستان کو خطرہ ہے اس جملے سے عام شہری کے اندر ایک ڈر پیدا ہوتا ہے اس کے ذہن میں پہلی بات یہی آتی ہے کہ مسلم ہونے کی وجہ سے باقی دنیا ہماری دشمن ہے لہذا اپنے محافظوں کی طاقت بڑھائیں ان کا ساتھ دیں انھیں کسی قسم کی کوئی کمی نہ ہو۔اب یہ جو ڈر پیدا کیا گیا ہے نہ تو یہ کبھی سامنے آیا ہے اور نہ کسی نے دیکھا ہے بس ڈر کا کاروبار ہو رہا ہے۔
ڈر کا کاروبار کرنے سے پہلے ہمیشہ لوگوں کو مالی طور پر کمزور کیا جاتا ہے آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک کو مالی طور پر کتنا کمزور کر دیا گیا ہے عام شہریوں کے حقوق ان کی جائیداد ان کی زندگی محفوظ نہیں۔سب سے پہلے عام لوگوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے تاکہ وہ کچھ دیکھ بھی لیں تو بولنے کی ہمت نہ کر سکیں اور ڈر کا کاربار خوب چلے ۔پاکستان اس ڈر کے کاروبار میں کافی نقصان اٹھا چکا ہے ملک کی اکانومی ملکی وسائل اور باقی کاروبار سب ٹھپ ہیں صرف ڈر کا کاروبار چلتا ہے۔


تبصرے