پاکستان کے سیاستدان

 ہمارے ہاں ایک کہاوت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ اپنے پاؤں پہ آپ کلہاڑی مارنا۔عمران خان ہو یا دوسرے سب نے اپنے پاوں پہ کلہاڑی مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔جو بچہ یا کوئی نوجوان ذیادہ چالاک اور پھرتیلا ہو اسے بزرگ سیاسی کہتے تھےاورآج بھی ہمارے ہاں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔لیکن پاکستان کے سیاستدان اپنے کام کے حوالہ سے چالاک اور پھرتیلے نہیں ہیں وہ صرف ایک کام میں چالاک ہیں وہ کام ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا میڈیا پہ بدزبانی کرنا بس اسی ایک کام میں مہارت رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سیاستدان

پاکستان کے سیاستدان آج کے ہوں یا پاکستان بنانے والے سب ایک ہی ڈگر پہ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپس میں لڑنا اور گالیاں دینا۔شروع میں آٹھ سالوں میں سات وزیراعظم بدلے گئے اور پھر دوسری مخلوق یعنی خلائی مخلوق کوراستہ ان سیاستدانوں نے دکھایا اور انھوں نے سیاستدانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔آج دنیا پاکستان کی منتخب حکومت پر بھروسہ نہیں کرتی اس کی کیا وجہ ہے ؟ پاکستان کے سیاستدان آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان کبھی ایسا دور نہیں آیا ۔

پاکستان کے سیاستدان

اس بات کا فائدہ ان کو ہوا جو صرف تنخواہ کے حقدار تھے لیکن وہ ان کاموں میں ملوث ہو گئے جو کام سیاستدانوں نے کرنے تھے۔اور عوام میں باقاعدہ ایک مہم چلائی جاتی جس کے تحت سیاستدانوں کو ہر طرح سے عوام کے سامنے ننگا کیا جاتا۔اور بھولی بھالی عوام بھی بغیر سوچے سمجھے ان باتوں پر یقین کر لیتی۔اس کے علاوہ سیاستدانوں نے بھی ایک دوسرے کو ننگا کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی بےنظیر کے ننگی تصویریں ہوں یا بےنظیر کا قتل ہو ہر سیاسی نے خود کو بڑا کرنے کی کوشش کی  اپنے کام کی وجہ سے نہیں دوسرے کو نیچا دکھا کر۔

اور آج بھی ویسے ہی حالات ہیں جیسے تھے۔یوسف رضا گیلانی کو ہٹایا جاتا ہے تو سیاسی خوش ہوتے ہیں نوازشریف کو نا اہل کیا جاتا ہے تو سیاسی خوش ہوتے ہیں اب بھی وہی ہوا ہے عمران خان کو نا اہل کیا گیا ہے تو بھی سیاسی ہی خوش ہو رہے ہیں پتہ نہیں کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر دوسروں کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے تو ہمارے ساتھ بھی ہو سکتا ہے ایک بات طے ہے کہ جب تک سیاستدان اکٹھے نہیں ہوتے تب تک ان کی جان نہیں چھوٹے گی۔

اب بھی وقت ہے کہ یہ لوگ اکٹھے ہو جائیں اور خود کو بچا لیں اگر سیاستدان بچ گئے تو ہمارا ملک بچ جائے گا آج کچھ عام ادمی یہ سمجھ گئے ہیں کہ سیاستدانوں کے ہاتھ کچھ نہیں ہے انھیں سر عام میٹنگز کے اندر بیٹھ کر ڈرایا جاتا ہے۔پاکستان کے سیاستدان اب ایسی سوچ کے مالک بن گئے ہیں کہ اپنا وقتی فائدہ نکالا جائے دوسروں کو نقصان پہنچا کر۔

آج وقت ہے اکٹھے ہو جاؤ ورنہ سب کے سب گندے کر دئے جاوگے۔

تبصرے