مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج
مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک بہادر دلیر اور دور اندیش حکمران تھا بچپن ہی سے وہ اپنے والد مہان سنگھ کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیتا تھا اس کے باپ کے مرنے کے بعد وہ اپنی مسل سکر چکیہ کا سربراہ بنا۔اپنی دور اندیشی سوچنے طاقت اور بہادری سے وہ لڑتالڑاتا لاہور پہنچ گیا اور لاہور کا حاکم بن گیا رنجیت سنگھ کے روہب اور دبدبے کی وجہ سے سارے سکھ سردار آہستہ آہستہ اس کے کنٹرول میں آ گئے۔مہاراجہ نے جب پنجاب سلطنت وسیع و عریض کر دی اور سر حدیں بنائیں تو اس کی ملاقات انگریز سرکار کے وفد سے ہوئی مہاراجہ اپنے عقل کی وجہ سے چھپ کر انگریز فوج کا معائنہ کرنے کے لئے اس میں گھس گیا۔انگریز فوج کو قریب سے دیکھا انھیں پرکھا اور واپس آ گئے۔
مہاراجہ نے سب درباریوں سے مشورہ کیا کہ انگریز فوج جدید ہتھیار اور منظم نظام کے تحت لڑتی ہے اس کا کیا حل ہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے مشورہ دیا کہ خالصہ فوج کو بھی جدید طرز کے تحت تیار کرنا چاہئیے۔اس مقصد کے لئے انگریز افسروں کی ضرورت تھی وہ پہلے ہی رنجیت سنگھ کا نام سن کر نوکری کی غرض سے پنجاب آئے ہوئے تھے بیس کے قریب یورپی افسر فوج میں بھرتی کئیےاور فوج کی ٹریننگ شروع ہو گئی۔
مہاراجہ کے حکم کے تحت خالصہ فوج کو جدید سے جدید طرز پر تیار کیا گیا فوج کو ہر سہولت دی گئی اس نئی طرز کی فوج کو تنخواہ دوسری مراعات اور رہائش الگ دی گئی۔مہاراجہ نے اس فوج پر کافی خرچہ کیا۔فوج نے بھی لڑائی کے وقت کوئی پرواہ نہ کی وہ اس بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن فوج انھی دیکھ کر کانپ جاتی تھی۔اپنی سلطنت کو وسیع اور مضبوط بنا نے کے ساتھ وسط ایشیا کے حملہ آوروں کا راستہ بھی بند کر دیا اور انگریزوں کے ساتھ پٹھان اور افغانی بھی رنجیت سنگھ کے ساتھ لڑنے سے کتراتے تھے۔
یہ سب کامیابی اور شان وشوکت مہاراجہ کی دور اندیشی اور فوج کی بہادری کی وجہ سے ہوا مہاراجہ کے ہوتے تو یہ فوج منظم اور حکم کی پابند رہی لیکن جیسے ہی مہاراجہ کی آنکھیں بند ہوئیں اور اس کے حکم کے مطابق کھڑک سنگھ کو مہاراجہ بنایا گیا۔مہاراجہ گردہ کا نشئی تھا اور سوچ بچار میں بھی کم عقل تھا اسی بات کا فائدہ فوج کے سربراہ مطلب آج کے جرنیلوں نے اپنی طاقت کا استعمال شروع کر دیا۔نت نئے مطالبات نئی فرمائشیں اور عوام پر ظلم و ستم کا آغاز کر دیا۔
خالصہ فوج اپنی مرضی کا مہاراجہ اور وزیر بناتی اور اس سے مراعات لیتی۔نت روز نئے مطالبات سے خزانہ بالکل خالی ہو گیا۔سلطنت کے وارثوں کو اب اپنی فکر ہونے لگی کہ یہ بے لگام فوج ہمیں بھی کھا جائے گی۔ جو فوج جدید طرز پر دشمن کے خلاف لڑنے کے لئے بنائی گئی تھی وہ اپنی ہی سلطنت کو کھانا شروع ہو گئی۔
اخر کار مہارانی جند کور نے اس فوج سے جان چھڑانے کے لئے خالصہ فوج کو انگریز فوج سے لڑوا دیا تاکہ اس فوج سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔خالصہ فوج نے ہر میدان جنگ میں بہادری کے جوہر دکھائے اور انگریزوں کے پاؤں لڑکھڑا گئے لیکن ایک منظم فوج اور سادہ فوج میں بہت فرق ہوتا ہے آخر کار خالصہ فوج کو شکست ہوئی اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ گئی۔مہارانی جند کور نے فوج سے تو چھٹکارا حاصل کر لیا لیکن اپنا ملک اپنا وطن اور اپنی سلطنت بھی کھو دی۔
اور انگریز نے پنجاب پر قبضہ کر لیا۔
اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ کونسی فوج رنجیت سنگھ کی فوج سے مشابہت رکھتی ہے۔۔
تبصرے