پاکستانی بطور قوم
آزادی کی جدو جہد میں مسلم سکھ اور ہندو کندھے سے کندھا ملا کر اپنے ملک کے لئے لڑتے رہےاپنی جان اپنے مال غرض ہر چیز کی قربانی دی اور ایک ساتھ ہو کر قربانی دی۔ایسا نہیں تھا کہ الگ الگ تھے بلکہ اچھے خاصے تعلقات تھے اور اتنی قربانیوں اور انگریز سرکار کے ظلم اور سخت قوانین کے باوجود آزادی کی جدوجہد بڑھتی چلی گئی۔جس کے دل میں آزادی کی آگ تھی وہ لڑتا رہا۔
| پاکستانی بطور قوم |
انگریز سرکار کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ تو ایک ساتھ ہیں مذہب سب کا الگ ہے مگر مقصد ایک ہی ہے تو انھوں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ ترکیب سوچی کہ ان میں پھوٹ ڈالی جائے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مذہب کا۔مسلمانوں کو یہ باور کروایا گیا کہ ہندو مسلمانوں سے الگ ہیں ان کا دھرم الگ ہے وہ بہت سے خداؤں کی پوجا کرتے ہیں مسلمان ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہو گئی۔
وقت گزرتا گیا اور آخر کار ہم ایک قوم کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرے۔نیا جوش نیا جذبہ نیا ملک اور وہ بھی اپنا ملک کیا بات ہے۔
جن لوگوں نے پاکستان کے لئے کوشش کی تھی ان میں اقتدار کا لالچ تھا اپنے نام کی غرض تھی۔اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ وہ لوگ اگلے دس سال تک اقپدار کے لئے لڑتے رہے عوام کا کیا حال ہے جو مہاجر ہجرت کر کے آئے ہیں ان کا کیا کرنا ہے۔ملک کے لئے قانون سازی کرنی ہے یا نہیں۔ملکی سالمیت کے لئے اداروں کا قیام عمل میں لانا ہے یا نہیں۔ان سب کاموں سے بالا تر اپنی حوس تھی جو وہ ایک دوسرے سے اقتدار چھینتے ہوئے ثابت کرتے ہیں۔
| پاکستانی بطور قوم |
پھر ایسا وقت آیا کہ فوج کو اقتدار میں شامل کر لیا گیا جنھوں نے چوکیدارا کرنا تھا وہ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو گئے۔یہ پاکستان کی تاریخ کی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔اقتدار کا لالچ جو انگریز نے مسلم لیگ میں ڈالا تھا وہ آج تک ختم نہیں ہوا۔فوج اقتدار میں ایسی آئی کہ ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ملک میں ایک بار پھر جمہوری پارٹی کی حکومت آئی نیا قانون بنا نئے ادارے بننے شروع ہوئے عام آدمی کو لگا کہ ملک صحیح سمت جا رہا ہے۔
ادھر انڈیا نےایٹم بم بنایا تو بھٹو صاحب نے بھی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے اعلان کر دیا کہ اگر ہمیں گھاس بھی کھانا پڑا تو ہم ایٹم بم ضرور بنائیں گے ویسے بھٹو صاحب دور اندیش تھے آج پاکستانی گھاس ہی کھا رہے ہیں۔
| پاکستانی بطور قوم |
اقتدار کبھی فوج کے ہاتھ کبھی کسی پارٹی تو کبھی کسی پارٹی کے پاس ہر کوئی لالچ اور حوس میں بھاگتا رہا۔ان سارے کاموں کو دیکھتے ہوئے عام آدمی نے بھی سوچا کہ میں کیوں پیچھے رہوں ہر کوئی پیسہ بنا رہا ہے لہذا جس کا جہاں ہاتھ پڑا اس نے وہاں ہاتھ صاف کر لیا۔آج ہماری یہ صورتحال ہے کہ کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہمارے لئے ثواب ہے۔جس چیز کی مانگ بڑھ جائے اسے منہ مانگے داموں بیچنا ہمیں اچھا لگتا ہے۔
چیزیں بلیک میں بیچنا ہمارے کاروبار کا لازمی جز ہے کاروبار جیسا بھی ہو اس میں دو نمبری نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا۔ہم چیزیں حکومت سے چھپا کر مہنگے داموں بیچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی۔آپ کسی بھی شہر کے کسی بھی چوک پہ کھڑے ہو کر دیکھ لیں ہر تیسرا بندہ مانگتا پھرتا ہے
حکومتی اداروں میں رشوت خوری سفارشی طبقہ ذیادہ ہو گیا ہے اور لوگ جانتے ہیں کہ فلاں بندہ یا فلاں آفیسر رشوت لیتا ہے پھر بھی اسے سلام کرتے ہیں۔ ہم جیسا آدمی اگر کسی سرکاری دفتر چلا جائے تو اس کی کوئی بات نہیں سنتا اسے جان پہچان بنانی پڑتی ہے اور پہچان پیسوں سے بنتی ہے۔
ہم نے آزادی کی جدو جہد میں ہندؤوں سے علیحدہ ملک لے کر پتہ ہے کیا تیر مارا ہے آدھا ملک بنگلہ اور آدھا کنگلہ بنا دیا ہے۔
تبصرے