عمران خان

 پاکستان کا سب سے بڑا سپر سٹار کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بریڈفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لانے والا حکومتی ایوانوں سے پردے اتار کر پھینکنے والا۔عمران خان ایک پٹھان قبیلے نیازی میں 5 ستمبر 1952 کو لاہر میں پیدا ہوئے۔شروع سے ہی کرکٹ کا شوق تھا محلے والوں نے دوستوں نے کافی مذاق اڑایا اور سمجھایا کہ تم کرکٹر نہیں بن سکتے لیکن عمران خان نے زد بنا لی کہ کرکٹر ضرور بنوں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس جیسا کرکٹر آج تک نہیں ہوا۔

عمران خان

کرکٹ کھیلتے ہوئے پاکستان کو دنیا ئے کرکٹ کا بادشاہ بنا دیا۔کرکٹ سے فارغ ہو کر اس نے ضد لگائی کہ میں پاکستان میں کینسر ہسپتال بناؤنگا۔ایک بار پھر لوگوں نے روکا سمجھایا کہ یہ مذاق نہیں ہے اس کے لئے بہت سارا پیسہ چاہئے۔لیکن اس نے محنت کی دن رات پیسہ اکٹھا کیا اور ایک دن پاکستان میں کینسر ہسپتال بنا دیا ۔اور وہ ہسپتال ابھی تک چل رہا ہے۔پھر اس نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور اپنی پارٹی بنائی لیکن اس بار بھی لوگوں نے خوب سمجھایا اور روک بھی لیکن اس نے کہا کہ میں سیاست کروں گا۔مشرف کی طرف سے حکومت کی پیش کش کی  گئی لیکن خان نے کہا کہ میں جمہوری حکومت چاہتا ہوں لہذا الیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔

عمران خان

عمران خان نے جمہوریت کی بحالی کے لئے جیل بھی کاٹی  ججز کی بحالی میں وہ پیش پیش رہے۔لیکن خان صاحب کی سیاست میں تبدیلی آئی اور وہ تبدیلی یہ تھی کہ خان صاحب بھی روایتی سیاست کا حصہ بن گئے اور جو پاکستان میں طاقتور ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔اور باقائدہ خان صاحب کی تیاری ہونے لگی جیسا پہلے سیاستدان کرتے تھے ویسا ہی خان صاحب نے بھی شروع کر دیا اور دوسروں کو گالیاں برے نام اور دھرنے احتجاج کی سیاست شروع کردی۔جمہوریت کے لئے جیل جانے والا اچانک جمہوری حکومت کیخلاف کیوں ہو گیا؟ پاکستان میں جمہوریت اکثر ڈرتی ہوئی ہی آگے بڑھی ہے لیکن پھر بھی رکاوٹیں آتی رہیں۔

عمران خان

عمران خان ایک سچا اور ایماندار انسان ہے جو لوگ اسے جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خان صاحب مرنا قبول کریں گے لیکن دو نمبری نہیں۔لیکن جس الیکشن میں خان صاحب نے حکومت بنائی اس میں انھیں اتنی سیٹیں نہیں ملی تھیں لیکن خان صاحب نے مشروط حکومت بنا لی اور اسٹیبلشمنٹ نے خوب ساتھ دیا۔ایسا لگتا تھا کہ پاکستان میں اب مستحکم حکومت بنی ہے اور یہ اپنا عرصہ مکمل کرے گی لیکن طاقتور حلقوں کو یہ قبول نہیں کہ وزیراعظم پانچ سال مکمل کرے۔بد قسمتی سے پاکستان میں آج تک کسی وزیر اعظم نے پانچ سال مکمل نہیں کئے۔ ایسا کوئی ملک ہے جو ہمارا۔مقابلہ کر سکے یہ اعزاز صرف ہمیں حاصل ہے۔

عمران خان صاحب کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجود انھیں حکومت سے نکال دیا گیا۔اور اب کی بار عدم اعتماد کا راستہ اپنایا گیا۔پاکستان میں شروع سے ہی ایسے لیڈر کی کمی رہی ہے کہ جو جرنیلوں کو لگاموڈال سکے چند ایسے جرنیل ہیں جو اپنے ذاتی فائدے کے لئے پورے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ خان صاحب کو بھی اسی وجہ سے نقصان ہوا۔ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کو تجربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ انھیں چیک کر لیتے ہیں اور بھر یہ کہہ کر ہٹا دیا کہ تجربہ غلط رہا۔خان صاحب کے اندر جو جوش اور جذبہ تھا وہ مجھے لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ختم ہو رہا ہے کیونکہ وہ گیٹ نمبر چار پر حاضری لگوانا شروع ہو گئے ہیں۔

عمران خان

عمران خان صاحب کے پاس اب میرے خیال سے ایک ہی راستہ ہے اور جو حق سچ کا راستہ ہےوہ یہ ہے کہ جو بندے ملک کو نقصان پہنچانے اور اپنے ذاتی فائدے میں لگے ہوئے ہیں انھیں ایکسپوز کر دیں۔کیا ہو گا ذیادہ سے ذیادہ آپ کو مروا دیں گے بس ۔لیکن ایک بات یاد رکھیں یہ عوام آپ کےلئے کچھ بھی نہیں کرےگی کیونکہ ہمیں آزادی نہیں غلامی چاہئے۔کیونکہ ہم دس صدیوں سے دوسروں کے غلام رہ چکے ہیں اب ہمیں اپنوں کی غلامی کرتے ہوئے کیوں شرم آئے گی۔


تبصرے