پاکستان کی کرکٹ
بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ کرکٹ گوروں نے ایجاد کی ہےاور وہی اس کے ماہر ہیں یہ تو حقیقت ہے کہ ایجاد انھوں نے کی ہے لیکن باقی دنیا اس میں مہارت حاصل کر گئی اور آہستہ آہستہ یہ کھیل مقبول ہوتا گیا اور پھر اس میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں کچھ نئی چیزیں سامنے آئیں اور ایک کرکٹ کے تین فارمیٹ بن گئے پہلا ٹیسٹ کرکٹ جو پانچ دن تک جاری رہتا ہے اور دوسرا ایک روزہ جو پچاس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے کافی عرصہ یہ فارمیٹ چلتے رہے لیکن جیسے ہی نئی صدی کا آغاز ہوا تو کرکٹ میں ایک تیسرا فارمیٹ ٹونٹی ٹونٹی جو کہ بیس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے یہ فارمیٹ پہلے فارمیٹس سے ذیادہ تیز ثابت ہوا۔
نئے دور کی جدیدیت کے ساتھ کرکٹ بھی تیز ہوتی گئی اور اب تو بہت ذیادہ تیز ہو چکی ہے پاکستان کی کرکٹ میں کچھ بہتری آتی گئی اور نئے کھلاڑی آتے گئے اب حاضر وقت میں آسٹریلیا میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جاری ہےاور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے لیکن اس سے پہلے جو میچز پاکستان نے کھیلے ہیں ان میں جو بیٹنگ پہلے دو بلے بازوں نے کی ہے وہ ایسا نہیں لگتا کہ پروفیشنل کرکٹرز ہیںکیا مزاق ہے یار کہ ایک میچ میں بابر اعظم اچھا کھیل جاتا ہے اور دوسرے تمام میچز میں فلاپ ہو جاتا ہے اور رضوان ہر میچ میں رنز کرتا ہے لیکن بالز ذیادہ اور رنز کم ہوتے ہیں
پاکستان کی ٹیم میں تیز بلے باز کوئی دیکھ لے تو بتانا سب کو۔
تبصرے