جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی
اکبر کو جتنی رغبت یا محبت اپنے مذہب سے تھی اتنا ہی احترام وہ دوسروں کا کرتا تھا بات یہاں نہیں ختم ہوتی وہ اپنے دربار میں ہندؤوں کو بھی عہدوں پر فائض کرنے لگا جس کی وجہ سے اس کی عوام اس سے خوش تھی لیکن ایک اور بات اکبر اپنے اباواجداد کی طرح مذہب کے معاملے میں ہلکا پھلکا ہی تھا
![]() |
| جلال الدین محمد اکبر کا دین الہٰی |
بات کرتے ہیں اس کے دین الہی کی جو اس نے اپنے درباری علماء کی صحبت میں رہ کر منصوبہ بنایا اس کے پیچھے دو وجوہات ہو سکتی ہیں پہلی یہ کہ اکبر خود کو خدا کا نائب تصور کرنے لگا تھا خود کو سجدہ بھی کروانے لگا اپنے نام کا خطبہ پڑھوانے لگا لوگ اسے خدا کا روپ کہتے اس میں اکبر کا اپنا ہاتھ ہی ہو گا کیونکہ اس کے اسلاف میں ایسا ہوتا آیا ہے۔
دوسری وجہ یہ کہ اکبر اس بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ہندوستان میں بہت سے مذاہب ہیں اور ہر کوئی اپنے مذہب پہ ڈٹا ہوا ہے یہ اس کا سیاسی منصوبہ ہو گا کہ لوگوں کو ایک دین کا قائل بنایا جائے جس سے معاشرے میں امن رہے گااور بادشاہت کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو گا اور کچھ تاریخ دان یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف سیاسی تحریر تھی جس کا مقصد صرف ملک میں امن و امان قائم رکھنا تھا کیونکہ مذہب بڑا نہیں ہے انسان اور اس کا امن بڑا ہے۔


تبصرے