جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی

جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی 
جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی 

 چنگیز خان اور تیمور لنگ کی نسل سے ہونے کی وجہ سے  اکبر لڑاکا اور بہادر تھا  چونکہ اس کا خاندان مسلم تھا اور اسے بھی اپنے مذہب سے بہت محبت تھی وہ علماء اور مشائخ کی بہت عزت کرتا تھا اور ان کے ساتھ وقت گزارتا اور ہدایت حاصل کرتا اکبر دن بدن مذہب کے قریب ہوتا چلا گیا اور صوفیوں سے رغبت بڑھاتا گیا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے ملک میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اسی وجہ سے وہ انصاف برابر تقسیم کرتا تھاشاید اسی وجہ سے تمام مہاراجے اس کی اطاعت کرتے ہچکچاتے نہیں تھے۔

اکبر کو جتنی رغبت یا محبت اپنے مذہب سے تھی اتنا ہی احترام وہ دوسروں کا کرتا تھا بات یہاں نہیں ختم ہوتی وہ اپنے دربار میں ہندؤوں کو بھی عہدوں پر فائض کرنے لگا جس کی وجہ سے اس کی عوام اس سے خوش تھی لیکن ایک اور بات اکبر اپنے اباواجداد کی طرح مذہب کے معاملے میں ہلکا پھلکا ہی تھا 

جلال الدین محمد اکبر کا دین الہٰی 

بات کرتے ہیں اس کے دین الہی کی جو اس نے اپنے درباری علماء کی صحبت میں رہ کر منصوبہ بنایا اس کے پیچھے دو وجوہات ہو سکتی ہیں پہلی یہ کہ اکبر خود کو خدا کا نائب تصور کرنے لگا تھا خود کو سجدہ بھی کروانے لگا اپنے نام کا خطبہ پڑھوانے لگا لوگ اسے خدا کا روپ کہتے اس میں اکبر کا اپنا ہاتھ ہی ہو گا کیونکہ اس کے اسلاف میں ایسا ہوتا آیا ہے۔

دوسری وجہ یہ کہ اکبر اس بات کو اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ہندوستان میں بہت سے مذاہب ہیں اور ہر کوئی اپنے مذہب پہ ڈٹا ہوا ہے یہ اس کا سیاسی منصوبہ ہو گا کہ لوگوں کو ایک دین کا قائل بنایا جائے  جس سے معاشرے میں امن رہے گااور بادشاہت کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو گا اور کچھ تاریخ دان یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف سیاسی تحریر تھی جس کا مقصد صرف ملک میں امن و امان قائم رکھنا تھا کیونکہ مذہب بڑا نہیں ہے انسان اور اس کا امن بڑا ہے۔

تبصرے