اشاعتیں

ڈر کا کاروبار

تصویر
 انسان ذہنی شعور رکھنے کی وجہ سے مرنے کو نا پسند کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ میں کبھی بھی مروں نا ۔وہ موت کا ڈر پال لیتا ہے اور ہر کام کرنے سے پہلے یا کچھ حاصل کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔اور اسی ڈر کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں وہ اسے دھمکیاں دیتے ہیں مذید ڈراتے ہیں کہ تم مر جاؤ گے یا تمہارا یہ نقصان ہو جائے گا تمہارا گھر تمہارے بچے ختم ہو جائیں گے۔ اور جو بہلے ڈرا ہوتا ہے وہ مذید ڈر جاتا ہے اور اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے کہ میں کہیں مر نہ جاوں۔  ڈر کا کاروبار جو لوگ ڈر پیدا کرتے ہیں وہ ڈر کا کاروبار کرتے ہیں ڈرتے وہ بھی ہیں لیکن وہ محسوس نہیں ہونے دیتے اور الٹا ڈر کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈر کا کاروبار بڑھاتے ہوئے پھر وہ لوگوں سے ان کی حفاظت کے بدلے کچھ مانگ کرتے ہیں اور مانگ ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جو یا تو اپنے لئے اہم ہوتی ہے یا پھر دوسرے کی پیاری چیز ہوتی ہے آج کل لوگوں کو پیسوں کی ذیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے لوگ ذیادہ تر پیسے ہی مانگتے ہیں اور اسے پرٹیکشن منی بولا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں جو ڈر کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ کس حیثیت س...

محافظ بنے قاتل

تصویر
محافظ بنے قاتل  شروع شروع میں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرتے اور دور بھاگ جاتے تھے ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آئے آپس میں تعلق بنے پیار بڑھا اور مل کر رہنے لگے پھر انسانی فطرت میں ہے کہ لڑتا ضرور ہے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ایک دوسرے سے دوریاں ہو گئیں اور مرنا مرانا شروع ہو گیا۔جیسے جیسے ترقی ہوئی اور انسان نے سوچنا شروع کیا تو پھر انسان نے انسان کو لالچ اور ڈر کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر انسان نے ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے محافظ رکھنا شروع کر دیئے۔اور وہ محافظ حفاظت کے بدلے اجرت لےنے لگے۔ تاریخ میں ایسےکئی محافظ ملتے ہیں جنھوں نے اپنی جان تک گنوا دی لیکن اپنی نوکری اور اپنی ذمہ داری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نےاپنے لالچ کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو بیچ دیا اور جس کی حفاظت کرتے تھے اس کے ہی محافظ بنے قاتل۔ ہندوستان کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کا نام ایسے ہی محافظوں میں درج ہے جنھوں نے چند روپوں یا جاگیروں کے لئے اپنی خودداری اور اپنے لوگوں بلکہ اپنے بادشاہ کی زندگی دشمن ...

پنجاب ختم ہو رہا ہے

تصویر
پنجاب ختم ہو رہا ہے پنجاب ختم ہو رہا ہے    مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں کشمیر سے سندھ اور دریائے ستلج سے پشاور تک کا سارا علاقہ پنجابی سلطنت کا حصہ تھا اور یہ سلطنت ایک پنجابی باشندے نے اپنی محنت اپنی بہادری اور دور نظری سے کھڑی کی تھی انگریز بھی پنجاب کے ساتھ ٹکرانے سے گھبراتے تھے۔ جب ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوا تب پنجاب کے دو حصے ہو گئے لیکن اس سے پہلے انگریز کشمیر اور پشاور کو پنجاب سے علیحدہ کر چکے تھےاور جاتے جاتے پنجاب کے دو ٹکڑوں کے ساتھ ہندوستان کے بھ دو ٹکڑے کر دئیے۔آدھا پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا اور آدھا ہندوستان کے حصے میں آیا۔  پنجاب ختم ہو رہا ہے۔۔ہندوستانی پنجاب میں سے تین حصے الگ کر دیئے گئے ہیں ہریانہ چندیگڑھ اور ہماچل پردیش انھیں الگ کر دیا گیا ہے۔اور سکھ باقی پنجاب کو خالستان بنانا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی پنجابی کو گورمکھی مطلب گورو کے منہ سے بولی جانے والی زبان کا نام دے چکے ہیں۔اب اگر خالستان بن جاتا ہے تو پنجاب اور پنجابی ختم ہو جائیں گے۔ پنجاب ختم ہو رہا ہے ۔ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا اور انگلش کو د...

محمد بن قاسم اور راجہ داہر

تصویر
 بغداد کا گورنر حجاج بن یوسف امویوں کی طرف سے حکومت کر رہا تھا ہماری نصابی کتب کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے ایک مسلم لڑکی کو قید کر رکھا تھا اور اس لڑکی نے ایک خط کے ذریعے حجاج بن یوسف کو اطلاع دی کہ مجھے آزاد کرواؤ۔پھر حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا اور وہ سندھ آئے اور سندھ کو فتح کیا اور لڑکی کو آزاد کروایا پھر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی وجہ سے بر صغیر میں اسلام کے دروازے کھلے۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر اس کے علاوہ محمد بن قاسم کو جو کہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا بہت عقلمند اور بہادر اور دور اندیش تھا اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے سپہ سالار بنایا گیا آئیے کچھ تاریخی لمحات پر نظر ڈالتے ہیں حجاج بن یوسف یہ چاہتا تھا کہ میں سندھ کو فتح کروں اور اسی دور میں کچھ سید زادے بھی اپنا وطن چھوڑ کر ان امویوں کے ڈر سے سندھ میں راجہ داہر کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے حجاج جو کہ سیدوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اس نے راجہ داہر سے مطالبہ کیا سید زادے میرے دشمن ہیں لہذا انھیں میرے حوالے کرو لیکن راجہ داہر نے صاف صاف انکار کر دیا اوذ کہا کہ وہ میرے مہ...

عید میلادالنبی

تصویر
 عید میلادالنبی ہر سال بارہ ربیع الاول کو منائی جاتی ہےہر مسلمان اپنے نبی   ص  کی دنیا میں آمد پر خوشی مناتا ہے اور دل سے خیرات و صدقہ دیتا ہے۔پاکستان سمیت دنیاہبھر میں ہر مسلمان خوشی منا کر اپنے نبی  .  ص   کوخراج عقیدت پیش کرتا ہے اس میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آمد 9 ربیع الاول کو ہوئی اور کچھ سترہ ربیع الاول کو مناتے ہیں لیکن ذیادہ مسلمان بارہ کو ہی مناتے ہیں۔ عید میلادالنبی اور کچھ کا یہ کہنا ہے کہ آپ  ص .  کی ولادت اور وفات بارہ ربیع الاول کو ہی ہوئی لیکن وہ صرف خوشی ہی مناتے ہیں ۔دنیا بھر میں مسلمان رہتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ بارہ ربیع الاول کی رات کو محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے چھوٹے بڑے اجتماع ہر جگہ ہوتے ہیں۔ہر مسلمان حسب توفیق حصہ ڈالتا ہے۔پھر دن کو جلوس نکالے جاتے ہیں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیںنعرے لگاتے ہوئے عقیدت پیش کرتے ہیں۔اور پھر رات کو ثواب لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔شروع میں ایسا نہیں ہوتا تھا لوگ صرف محفلیں کرواتے تھے دعائیں مانگتے نیازیں تقسیم کرتے تھے لیکن اب ماحول بدل گیا ہے اب سیاسی رنگ ذیادہ ہو گیا ہے۔ہلڑ با...

عمران خان

تصویر
 پاکستان کا سب سے بڑا سپر سٹار کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بریڈفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لانے والا حکومتی ایوانوں سے پردے اتار کر پھینکنے والا۔عمران خان ایک پٹھان قبیلے نیازی میں 5 ستمبر 1952 کو لاہر میں پیدا ہوئے۔شروع سے ہی کرکٹ کا شوق تھا محلے والوں نے دوستوں نے کافی مذاق اڑایا اور سمجھایا کہ تم کرکٹر نہیں بن سکتے لیکن عمران خان نے زد بنا لی کہ کرکٹر ضرور بنوں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس جیسا کرکٹر آج تک نہیں ہوا۔ عمران خان کرکٹ کھیلتے ہوئے پاکستان کو دنیا ئے کرکٹ کا بادشاہ بنا دیا۔کرکٹ سے فارغ ہو کر اس نے ضد لگائی کہ میں پاکستان میں کینسر ہسپتال بناؤنگا۔ایک بار پھر لوگوں نے روکا سمجھایا کہ یہ مذاق نہیں ہے اس کے لئے بہت سارا پیسہ چاہئے۔لیکن اس نے محنت کی دن رات پیسہ اکٹھا کیا اور ایک دن پاکستان میں کینسر ہسپتال بنا دیا ۔اور وہ ہسپتال ابھی تک چل رہا ہے۔پھر اس نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور اپنی پارٹی بنائی لیکن اس بار بھی لوگوں نے خوب سمجھایا اور روک بھی لیکن اس نے کہا کہ میں سیاست کروں گا۔مشرف کی طرف سے حکومت کی پیش کش کی  گئی لیکن خان نے ک...

پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟

تصویر
 ہم جب چھوٹے تھے مطلب جب پاکستان نیا نیا بنا تھا اس وقت ہمارے پیسے کی بہت ویلیو تھی ایک روپیہ چار ڈالر کا تھا ہمارے ہاں بھی چھوٹے پیسے ہوا کرتے تھے پنجابی میں ہم اسے ایک آنا دو انے وغیرہ کہتے تھے۔سولہ آنوں کا ایک روپیہ بنتا تھا اور وہ ایک روپیہ آج کا پانچ ہزار روپیہ بنتا ہے۔یہ سب ہوتے ہوئے اتنی ترقی سے اتنی جلدی تنزلی کیسے پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟ پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟     آئیے ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کھلواڑ کیوں ہوا؟ پاکستان بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ انگریز کی چال تھی جس میں وہ کامیاب ہو گیا اور جو ہمارے لیڈر بنے ہوئے تھے مسلم لیگ کے سربراہ وہ جتنے بھی تھے انھیں صرف اپنے نام اور اپنے اقتدار کا لالچ تھا اسی وجہ سے تو وہ ملک کے لئے کچھ کر نہیں سکے وہ سارے اقتدار کے لئے لڑتے رہے اور لڑتے بھی گلی کے کتوں کی طرح تھے کوئی اصول کوئی طریقہ نہیں تھا۔صرف اپنے اقتدار اور حوس میں ڈوبے ہوئے تھے اور وہ ملک جس کی بنیادیں پہلے ہی سے کمزور تھیں اور بھی کمزور ہو گئیں۔لیکن کتوں کو گلی محلے کی حالت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انھیں ...