اشاعتیں

ارشد شریف

تصویر
 پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہور یعنی عوام کی حکومت ہے عوامی حکومت منتخب ہوتی ہے اور عوام کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور عوام بھی اس بات سے کافی ذیادہ مطمئن نظر آتی ہے کیونکہ عوام ان لوگوں کو گھر بھیجنا تو چاہتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے۔صرف گلیوں بازاروں چوراہوں اور بیٹھکوں میں بیٹھ کر بحث کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگتے ہیں اگر وہ آٹا مانگنا شروع کر دیں تو کافی اکٹھا کر لیں وہ ووٹ لینے کے بعد عوام کو بھی مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اور وہی بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگنے والے عوام کو بھکاری بنا دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات اہم ہے کہ ان سیاست دانوں کو کون بلیک میل کرتا ہے کون ہے جو انھیں ڈراتا ہے کون ہے جو انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا اور کون ہےجو انھیں دھمکیاں لگاتا ہے پاکستان میں اکثر ہر کام کا ذمہ دار امریکہ کا ٹھہرایا جاتا ہے کہ امریکہ یہ کر رہا ہے وہ کر رہا ہےلیکن یہ بات اصل معاملے سے رو گردانی اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کافی ہے۔  پاکستان میں سیاسیوں سے ذیادہ حکومت یہاں کے باسیوں نے کی ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ یہاں وہ رہتے ...

پاکستان کے سیاستدان

تصویر
 ہمارے ہاں ایک کہاوت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ اپنے پاؤں پہ آپ کلہاڑی مارنا۔عمران خان ہو یا دوسرے سب نے اپنے پاوں پہ کلہاڑی مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔جو بچہ یا کوئی نوجوان ذیادہ چالاک اور پھرتیلا ہو اسے بزرگ سیاسی کہتے تھےاورآج بھی ہمارے ہاں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔لیکن پاکستان کے سیاستدان اپنے کام کے حوالہ سے چالاک اور پھرتیلے نہیں ہیں وہ صرف ایک کام میں چالاک ہیں وہ کام ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا میڈیا پہ بدزبانی کرنا بس اسی ایک کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان پاکستان کے سیاستدان آج کے ہوں یا پاکستان بنانے والے سب ایک ہی ڈگر پہ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپس میں لڑنا اور گالیاں دینا۔شروع میں آٹھ سالوں میں سات وزیراعظم بدلے گئے اور پھر دوسری مخلوق یعنی خلائی مخلوق کوراستہ ان سیاستدانوں نے دکھایا اور انھوں نے سیاستدانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔آج دنیا پاکستان کی منتخب حکومت پر بھروسہ نہیں کرتی اس کی کیا وجہ ہے ؟ پاکستان کے سیاستدان آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان کبھی ایسا دور نہیں آیا ۔ پاکستان کے سیاستدان اس بات کا فائدہ ان کو ہوا جو صرف تنخواہ ...

ڈر کا کاروبار

تصویر
 انسان ذہنی شعور رکھنے کی وجہ سے مرنے کو نا پسند کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ میں کبھی بھی مروں نا ۔وہ موت کا ڈر پال لیتا ہے اور ہر کام کرنے سے پہلے یا کچھ حاصل کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔اور اسی ڈر کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں وہ اسے دھمکیاں دیتے ہیں مذید ڈراتے ہیں کہ تم مر جاؤ گے یا تمہارا یہ نقصان ہو جائے گا تمہارا گھر تمہارے بچے ختم ہو جائیں گے۔ اور جو بہلے ڈرا ہوتا ہے وہ مذید ڈر جاتا ہے اور اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے کہ میں کہیں مر نہ جاوں۔  ڈر کا کاروبار جو لوگ ڈر پیدا کرتے ہیں وہ ڈر کا کاروبار کرتے ہیں ڈرتے وہ بھی ہیں لیکن وہ محسوس نہیں ہونے دیتے اور الٹا ڈر کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈر کا کاروبار بڑھاتے ہوئے پھر وہ لوگوں سے ان کی حفاظت کے بدلے کچھ مانگ کرتے ہیں اور مانگ ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جو یا تو اپنے لئے اہم ہوتی ہے یا پھر دوسرے کی پیاری چیز ہوتی ہے آج کل لوگوں کو پیسوں کی ذیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے لوگ ذیادہ تر پیسے ہی مانگتے ہیں اور اسے پرٹیکشن منی بولا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں جو ڈر کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ کس حیثیت س...

محافظ بنے قاتل

تصویر
محافظ بنے قاتل  شروع شروع میں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرتے اور دور بھاگ جاتے تھے ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آئے آپس میں تعلق بنے پیار بڑھا اور مل کر رہنے لگے پھر انسانی فطرت میں ہے کہ لڑتا ضرور ہے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ایک دوسرے سے دوریاں ہو گئیں اور مرنا مرانا شروع ہو گیا۔جیسے جیسے ترقی ہوئی اور انسان نے سوچنا شروع کیا تو پھر انسان نے انسان کو لالچ اور ڈر کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر انسان نے ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے محافظ رکھنا شروع کر دیئے۔اور وہ محافظ حفاظت کے بدلے اجرت لےنے لگے۔ تاریخ میں ایسےکئی محافظ ملتے ہیں جنھوں نے اپنی جان تک گنوا دی لیکن اپنی نوکری اور اپنی ذمہ داری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نےاپنے لالچ کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو بیچ دیا اور جس کی حفاظت کرتے تھے اس کے ہی محافظ بنے قاتل۔ ہندوستان کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کا نام ایسے ہی محافظوں میں درج ہے جنھوں نے چند روپوں یا جاگیروں کے لئے اپنی خودداری اور اپنے لوگوں بلکہ اپنے بادشاہ کی زندگی دشمن ...

پنجاب ختم ہو رہا ہے

تصویر
پنجاب ختم ہو رہا ہے پنجاب ختم ہو رہا ہے    مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں کشمیر سے سندھ اور دریائے ستلج سے پشاور تک کا سارا علاقہ پنجابی سلطنت کا حصہ تھا اور یہ سلطنت ایک پنجابی باشندے نے اپنی محنت اپنی بہادری اور دور نظری سے کھڑی کی تھی انگریز بھی پنجاب کے ساتھ ٹکرانے سے گھبراتے تھے۔ جب ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوا تب پنجاب کے دو حصے ہو گئے لیکن اس سے پہلے انگریز کشمیر اور پشاور کو پنجاب سے علیحدہ کر چکے تھےاور جاتے جاتے پنجاب کے دو ٹکڑوں کے ساتھ ہندوستان کے بھ دو ٹکڑے کر دئیے۔آدھا پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا اور آدھا ہندوستان کے حصے میں آیا۔  پنجاب ختم ہو رہا ہے۔۔ہندوستانی پنجاب میں سے تین حصے الگ کر دیئے گئے ہیں ہریانہ چندیگڑھ اور ہماچل پردیش انھیں الگ کر دیا گیا ہے۔اور سکھ باقی پنجاب کو خالستان بنانا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی پنجابی کو گورمکھی مطلب گورو کے منہ سے بولی جانے والی زبان کا نام دے چکے ہیں۔اب اگر خالستان بن جاتا ہے تو پنجاب اور پنجابی ختم ہو جائیں گے۔ پنجاب ختم ہو رہا ہے ۔ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا اور انگلش کو د...

محمد بن قاسم اور راجہ داہر

تصویر
 بغداد کا گورنر حجاج بن یوسف امویوں کی طرف سے حکومت کر رہا تھا ہماری نصابی کتب کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے ایک مسلم لڑکی کو قید کر رکھا تھا اور اس لڑکی نے ایک خط کے ذریعے حجاج بن یوسف کو اطلاع دی کہ مجھے آزاد کرواؤ۔پھر حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا اور وہ سندھ آئے اور سندھ کو فتح کیا اور لڑکی کو آزاد کروایا پھر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی وجہ سے بر صغیر میں اسلام کے دروازے کھلے۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر اس کے علاوہ محمد بن قاسم کو جو کہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا بہت عقلمند اور بہادر اور دور اندیش تھا اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے سپہ سالار بنایا گیا آئیے کچھ تاریخی لمحات پر نظر ڈالتے ہیں حجاج بن یوسف یہ چاہتا تھا کہ میں سندھ کو فتح کروں اور اسی دور میں کچھ سید زادے بھی اپنا وطن چھوڑ کر ان امویوں کے ڈر سے سندھ میں راجہ داہر کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے حجاج جو کہ سیدوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اس نے راجہ داہر سے مطالبہ کیا سید زادے میرے دشمن ہیں لہذا انھیں میرے حوالے کرو لیکن راجہ داہر نے صاف صاف انکار کر دیا اوذ کہا کہ وہ میرے مہ...

عید میلادالنبی

تصویر
 عید میلادالنبی ہر سال بارہ ربیع الاول کو منائی جاتی ہےہر مسلمان اپنے نبی   ص  کی دنیا میں آمد پر خوشی مناتا ہے اور دل سے خیرات و صدقہ دیتا ہے۔پاکستان سمیت دنیاہبھر میں ہر مسلمان خوشی منا کر اپنے نبی  .  ص   کوخراج عقیدت پیش کرتا ہے اس میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آمد 9 ربیع الاول کو ہوئی اور کچھ سترہ ربیع الاول کو مناتے ہیں لیکن ذیادہ مسلمان بارہ کو ہی مناتے ہیں۔ عید میلادالنبی اور کچھ کا یہ کہنا ہے کہ آپ  ص .  کی ولادت اور وفات بارہ ربیع الاول کو ہی ہوئی لیکن وہ صرف خوشی ہی مناتے ہیں ۔دنیا بھر میں مسلمان رہتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ بارہ ربیع الاول کی رات کو محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے چھوٹے بڑے اجتماع ہر جگہ ہوتے ہیں۔ہر مسلمان حسب توفیق حصہ ڈالتا ہے۔پھر دن کو جلوس نکالے جاتے ہیں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیںنعرے لگاتے ہوئے عقیدت پیش کرتے ہیں۔اور پھر رات کو ثواب لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔شروع میں ایسا نہیں ہوتا تھا لوگ صرف محفلیں کرواتے تھے دعائیں مانگتے نیازیں تقسیم کرتے تھے لیکن اب ماحول بدل گیا ہے اب سیاسی رنگ ذیادہ ہو گیا ہے۔ہلڑ با...