اشاعتیں

جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی

تصویر
جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی  جلال الدین محمد اکبر کا دین الہی   چنگیز خان اور تیمور لنگ کی نسل سے ہونے کی وجہ سے  اکبر لڑاکا اور بہادر تھا  چونکہ اس کا خاندان مسلم تھا اور اسے بھی اپنے مذہب سے بہت محبت تھی وہ علماء اور مشائخ کی بہت عزت کرتا تھا اور ان کے ساتھ وقت گزارتا اور ہدایت حاصل کرتا اکبر دن بدن مذہب کے قریب ہوتا چلا گیا اور صوفیوں سے رغبت بڑھاتا گیا اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے ملک میں بہت سے مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں اسی وجہ سے وہ انصاف برابر تقسیم کرتا تھاشاید اسی وجہ سے تمام مہاراجے اس کی اطاعت کرتے ہچکچاتے نہیں تھے۔ اکبر کو جتنی رغبت یا محبت اپنے مذہب سے تھی اتنا ہی احترام وہ دوسروں کا کرتا تھا بات یہاں نہیں ختم ہوتی وہ اپنے دربار میں ہندؤوں کو بھی عہدوں پر فائض کرنے لگا جس کی وجہ سے اس کی عوام اس سے خوش تھی لیکن ایک اور بات اکبر اپنے اباواجداد کی طرح مذہب کے معاملے میں ہلکا پھلکا ہی تھا  جلال الدین محمد اکبر کا دین الہٰی  بات کرتے ہیں اس کے دین الہی کی جو اس نے اپنے درباری علماء کی صحبت میں رہ کر منصوبہ بنایا اس کے پیچھے دو وجو...

ہمارے حالات

 پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اچھا وہ تو سب کو پتہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔بات کچھ یوں ہے کہ ہمارے حالات ایسے ہی خراب نہیں اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہم خود ذمہ دار ہیں ہم نے شہریوں کے حقوق اور فرائض اس طرح ہی پڑھ رکھے ہیں جیسے مطالعہ پاکستان میں پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان ذخائر کی دولت سے مالا مال لیکن ہے کچھ بھی نہیں۔  ہمارے حالات کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جو سیدھی اور سچی بات کرے اسے سادا اور شریف کہہ کر پکاتے رہتے ہیں اور جوتیز تراز ہو چالاک ہو اسے ہم حرام کا کہہ کر بلاتے ہیں اگر کوئی الللہ نہ کرے ایسا ہو اگر کسی کا کوئی راز ہمارے ہاتھ لگ جائے یہ میں آپ کو اسلامی ہونے کی بات بتا رہا ہوں تو پھر اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیں گےاور اس سے فائدہ اٹھائیں گے حالانکہ اسلام کے مطابق پردہ پوشی کا حکم ہے۔ہمارے حالات ہمارے حالات ایسے ہی خراب نہیں ہوئے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کٹہرے میں کھڑے شخص سے تو قسم لی جاتی ہے لیکن منصف سے کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ منصف کو بھی قسم دینی چاہئے۔۔تب ہی انصاف مل سکتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں جمہوریہ یعنی عوامی عوام کہاں ہے کدھر ہے عوام ...

پاکستان کے حالات

تصویر
 پاکستان میں آپ کسی سڑک پہ جا رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ دور جانے کے بعد وہ سڑک ختم ہو جائے اور اگر آپ کا گھر کا پانی نالی کے ذریعہ منزل تک پہنچ رہا ہے تو ہو سکتا ہے وہ نالی بند کر دی جائے کیونکہ یہاں لوگ ایک دوسرے رشتہ داری بنانے کے لئے یہ بڑے بڑے کارنامے سر انجام دیتے رہتے ہیں  پاکستان کے حالات پاکستان کے حالات کو مد نظر رکھتے اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں یہاں رہوں تو چند باتیں اپنے ذہن میں باندھ کے رکھ لیں کیونکہ یہاں اکثر لوگوں کے دماغ سے اچھی اچھی باتیں پھسل جاتی ہیں پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ پیٹھ کے پیچھے بات کرنا غیبت ہے اور منہ کے آگے بات کرنا بد تمیزی ہے لہذا یہاں اخلاقیات کو دیکھتے ہوئے چپ رہنا ہی آپ کی صحت کے لئے ضروری ہے ورنہ یہاں ٹیکنالوجی ذیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کا سوفٹ ویئر اپڈیٹ کر دیا جائے گا۔ پاکستان کے حالات اتنے اچھے ہیں کہ کچھ لوگ رات کو آپ کے گھر میں داخل ہو کر آپ کی خدمت گزاری کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور وہ خدمت کے بدلے قیمتی چیزیں ساتھ لے جاتے ہیں اور وہ بھی نہایت تمیز اور اخلاق کے ساتھ بلکہ آپ اپنی خوشی سے انھیں چیزیں لے جانے کو بو...

عمران خان کا سرپرائز

تصویر
 نومبر کا مہینہ اور آرمی چیف کی تعیناتی ان دو باتوں نے پاکستان میں ہیجان پیدا کیا ہوا تھا ایک طرف عمران خان صاحب جو ہمیشہ کی طرح پھر سڑکوں پر ہیں انھوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا اور لاہور سے قافلہ لے کر نکل پڑے اور دوسری جانب لنگڑی لوہلی حکومت بھی تیاری پکڑنے لگی عمران خان نے اپنی طاقت دکھانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی لیکن وزیرآباد تھانہ کنجاہ کی حدود میں عمران خان پر حملہ کیا جاتا ہے جس میں ان کی ٹانگ پر تین فائر لگ جاتے عمران خان کا سرپرائز اس واقع پر کافی چہ مگوئیاں کی گئیں لیکن کوئی خاص پیش رفت نہ ہوئی ابھی یہ معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ عمران خان کا سرپرائز پھر آیا کہ میں پھر لانگ مارچ کرونگالیکن اس بار عمران خان کا سرپرائز یہ تھا کہ شاہ محمود قریشی اور اسد عمر لانگ مارچ کی قیادت کریں گے لیکن کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا نومبر کا آخری عشرہ شروع ہوا تو ایک بار پھر عمران خان کا سرپرائز آیا کہ میں چھبیس نومبر کو جلسہ کرونگا اور جلسے کی تیاری شروع ہو گئی حکومت کے ساتھ عوام کو بھی انتظار تھا کہ عمران خان کا سرپرائز کیا ہو گا لیکن جلسے میں کوئی خاص بات نہ ہو سکی جلسہ ختم کر کے ہر کوئی اپنے اپ...

پاکستان کی کرکٹ

تصویر
بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ کرکٹ گوروں نے ایجاد کی ہےاور وہی اس کے ماہر ہیں یہ تو حقیقت ہے کہ ایجاد انھوں نے کی ہے لیکن باقی دنیا اس میں مہارت حاصل کر گئی اور آہستہ آہستہ یہ کھیل  مقبول ہوتا گیا اور پھر اس میں تبدیلیاں آنا شروع ہوئیں کچھ نئی چیزیں سامنے آئیں اور ایک کرکٹ کے تین فارمیٹ بن گئے پہلا ٹیسٹ کرکٹ جو پانچ دن تک جاری رہتا ہے اور دوسرا ایک روزہ جو پچاس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے کافی عرصہ یہ فارمیٹ چلتے رہے لیکن جیسے ہی نئی صدی کا آغاز ہوا تو کرکٹ میں ایک تیسرا فارمیٹ ٹونٹی ٹونٹی جو کہ بیس اوورز پر مشتمل ہوتا ہے یہ فارمیٹ پہلے فارمیٹس سے ذیادہ تیز ثابت ہوا۔ نئے دور کی جدیدیت کے ساتھ کرکٹ بھی تیز ہوتی گئی اور اب تو بہت ذیادہ تیز ہو چکی ہے پاکستان کی کرکٹ میں کچھ بہتری آتی گئی اور نئے کھلاڑی آتے گئے اب حاضر وقت میں آسٹریلیا میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جاری ہےاور پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ چکا ہے لیکن اس سے پہلے جو میچز پاکستان نے کھیلے ہیں ان میں جو بیٹنگ پہلے دو بلے بازوں نے کی ہے وہ ایسا نہیں لگتا کہ پروفیشنل کرکٹرز ہیںکیا مزاق ہے یار کہ ایک میچ میں بابر اعظم اچھا کھیل جاتا ہے اور دوسرے...

ارشد شریف

تصویر
 پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں جمہور یعنی عوام کی حکومت ہے عوامی حکومت منتخب ہوتی ہے اور عوام کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہےاور عوام بھی اس بات سے کافی ذیادہ مطمئن نظر آتی ہے کیونکہ عوام ان لوگوں کو گھر بھیجنا تو چاہتے ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتے۔صرف گلیوں بازاروں چوراہوں اور بیٹھکوں میں بیٹھ کر بحث کرتے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگتے ہیں اگر وہ آٹا مانگنا شروع کر دیں تو کافی اکٹھا کر لیں وہ ووٹ لینے کے بعد عوام کو بھی مانگنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اور وہی بھکاریوں کی طرح ووٹ مانگنے والے عوام کو بھکاری بنا دیتے ہیں۔ لیکن ایک بات اہم ہے کہ ان سیاست دانوں کو کون بلیک میل کرتا ہے کون ہے جو انھیں ڈراتا ہے کون ہے جو انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا اور کون ہےجو انھیں دھمکیاں لگاتا ہے پاکستان میں اکثر ہر کام کا ذمہ دار امریکہ کا ٹھہرایا جاتا ہے کہ امریکہ یہ کر رہا ہے وہ کر رہا ہےلیکن یہ بات اصل معاملے سے رو گردانی اور عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے کافی ہے۔  پاکستان میں سیاسیوں سے ذیادہ حکومت یہاں کے باسیوں نے کی ہے میں اکثر کہتا ہوں کہ یہاں وہ رہتے ...

پاکستان کے سیاستدان

تصویر
 ہمارے ہاں ایک کہاوت اکثر سننے کو ملتی ہے کہ اپنے پاؤں پہ آپ کلہاڑی مارنا۔عمران خان ہو یا دوسرے سب نے اپنے پاوں پہ کلہاڑی مارنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔جو بچہ یا کوئی نوجوان ذیادہ چالاک اور پھرتیلا ہو اسے بزرگ سیاسی کہتے تھےاورآج بھی ہمارے ہاں یہ الفاظ بولے جاتے ہیں۔لیکن پاکستان کے سیاستدان اپنے کام کے حوالہ سے چالاک اور پھرتیلے نہیں ہیں وہ صرف ایک کام میں چالاک ہیں وہ کام ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا میڈیا پہ بدزبانی کرنا بس اسی ایک کام میں مہارت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سیاستدان پاکستان کے سیاستدان آج کے ہوں یا پاکستان بنانے والے سب ایک ہی ڈگر پہ چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔آپس میں لڑنا اور گالیاں دینا۔شروع میں آٹھ سالوں میں سات وزیراعظم بدلے گئے اور پھر دوسری مخلوق یعنی خلائی مخلوق کوراستہ ان سیاستدانوں نے دکھایا اور انھوں نے سیاستدانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔آج دنیا پاکستان کی منتخب حکومت پر بھروسہ نہیں کرتی اس کی کیا وجہ ہے ؟ پاکستان کے سیاستدان آج تک اکٹھے نہیں ہو سکے آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں پاکستان کبھی ایسا دور نہیں آیا ۔ پاکستان کے سیاستدان اس بات کا فائدہ ان کو ہوا جو صرف تنخواہ ...

ڈر کا کاروبار

تصویر
 انسان ذہنی شعور رکھنے کی وجہ سے مرنے کو نا پسند کرتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ میں کبھی بھی مروں نا ۔وہ موت کا ڈر پال لیتا ہے اور ہر کام کرنے سے پہلے یا کچھ حاصل کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔اور اسی ڈر کا فائدہ کچھ لوگ اٹھاتے ہیں وہ اسے دھمکیاں دیتے ہیں مذید ڈراتے ہیں کہ تم مر جاؤ گے یا تمہارا یہ نقصان ہو جائے گا تمہارا گھر تمہارے بچے ختم ہو جائیں گے۔ اور جو بہلے ڈرا ہوتا ہے وہ مذید ڈر جاتا ہے اور اپنا حق بھی چھوڑ دیتا ہے کہ میں کہیں مر نہ جاوں۔  ڈر کا کاروبار جو لوگ ڈر پیدا کرتے ہیں وہ ڈر کا کاروبار کرتے ہیں ڈرتے وہ بھی ہیں لیکن وہ محسوس نہیں ہونے دیتے اور الٹا ڈر کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ڈر کا کاروبار بڑھاتے ہوئے پھر وہ لوگوں سے ان کی حفاظت کے بدلے کچھ مانگ کرتے ہیں اور مانگ ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جو یا تو اپنے لئے اہم ہوتی ہے یا پھر دوسرے کی پیاری چیز ہوتی ہے آج کل لوگوں کو پیسوں کی ذیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی وجہ سے لوگ ذیادہ تر پیسے ہی مانگتے ہیں اور اسے پرٹیکشن منی بولا جاتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں جو ڈر کا کاروبار کرتے ہیں اور وہ کس حیثیت س...

محافظ بنے قاتل

تصویر
محافظ بنے قاتل  شروع شروع میں انسان ایک دوسرے کو دیکھ کر ڈرتے اور دور بھاگ جاتے تھے ایک دوسرے کو قریب نہیں آنے دیتے تھے پھر آہستہ آہستہ ایک دوسرے کے قریب آئے آپس میں تعلق بنے پیار بڑھا اور مل کر رہنے لگے پھر انسانی فطرت میں ہے کہ لڑتا ضرور ہے آپس میں لڑائیاں شروع ہوئیں ایک دوسرے سے دوریاں ہو گئیں اور مرنا مرانا شروع ہو گیا۔جیسے جیسے ترقی ہوئی اور انسان نے سوچنا شروع کیا تو پھر انسان نے انسان کو لالچ اور ڈر کے ذریعے استعمال کرنا شروع کر دیا اور پھر انسان نے ضرورت کے مطابق اپنی حفاظت کے لئے محافظ رکھنا شروع کر دیئے۔اور وہ محافظ حفاظت کے بدلے اجرت لےنے لگے۔ تاریخ میں ایسےکئی محافظ ملتے ہیں جنھوں نے اپنی جان تک گنوا دی لیکن اپنی نوکری اور اپنی ذمہ داری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نےاپنے لالچ کی وجہ سے اپنی ذمہ داری کو بیچ دیا اور جس کی حفاظت کرتے تھے اس کے ہی محافظ بنے قاتل۔ ہندوستان کی تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کا نام ایسے ہی محافظوں میں درج ہے جنھوں نے چند روپوں یا جاگیروں کے لئے اپنی خودداری اور اپنے لوگوں بلکہ اپنے بادشاہ کی زندگی دشمن ...

پنجاب ختم ہو رہا ہے

تصویر
پنجاب ختم ہو رہا ہے پنجاب ختم ہو رہا ہے    مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں کشمیر سے سندھ اور دریائے ستلج سے پشاور تک کا سارا علاقہ پنجابی سلطنت کا حصہ تھا اور یہ سلطنت ایک پنجابی باشندے نے اپنی محنت اپنی بہادری اور دور نظری سے کھڑی کی تھی انگریز بھی پنجاب کے ساتھ ٹکرانے سے گھبراتے تھے۔ جب ہندوستان انگریزوں سے آزاد ہوا تب پنجاب کے دو حصے ہو گئے لیکن اس سے پہلے انگریز کشمیر اور پشاور کو پنجاب سے علیحدہ کر چکے تھےاور جاتے جاتے پنجاب کے دو ٹکڑوں کے ساتھ ہندوستان کے بھ دو ٹکڑے کر دئیے۔آدھا پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا اور آدھا ہندوستان کے حصے میں آیا۔  پنجاب ختم ہو رہا ہے۔۔ہندوستانی پنجاب میں سے تین حصے الگ کر دیئے گئے ہیں ہریانہ چندیگڑھ اور ہماچل پردیش انھیں الگ کر دیا گیا ہے۔اور سکھ باقی پنجاب کو خالستان بنانا چاہتے ہیں وہ پہلے ہی پنجابی کو گورمکھی مطلب گورو کے منہ سے بولی جانے والی زبان کا نام دے چکے ہیں۔اب اگر خالستان بن جاتا ہے تو پنجاب اور پنجابی ختم ہو جائیں گے۔ پنجاب ختم ہو رہا ہے ۔ہندوستان سے علیحدگی کے بعد پاکستان میں اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا اور انگلش کو د...

محمد بن قاسم اور راجہ داہر

تصویر
 بغداد کا گورنر حجاج بن یوسف امویوں کی طرف سے حکومت کر رہا تھا ہماری نصابی کتب کے مطابق سندھ کے راجہ داہر نے ایک مسلم لڑکی کو قید کر رکھا تھا اور اس لڑکی نے ایک خط کے ذریعے حجاج بن یوسف کو اطلاع دی کہ مجھے آزاد کرواؤ۔پھر حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا اور وہ سندھ آئے اور سندھ کو فتح کیا اور لڑکی کو آزاد کروایا پھر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ محمد بن قاسم کی وجہ سے بر صغیر میں اسلام کے دروازے کھلے۔ محمد بن قاسم اور راجہ داہر اس کے علاوہ محمد بن قاسم کو جو کہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا بہت عقلمند اور بہادر اور دور اندیش تھا اس کی اسی قابلیت کی وجہ سے اسے سپہ سالار بنایا گیا آئیے کچھ تاریخی لمحات پر نظر ڈالتے ہیں حجاج بن یوسف یہ چاہتا تھا کہ میں سندھ کو فتح کروں اور اسی دور میں کچھ سید زادے بھی اپنا وطن چھوڑ کر ان امویوں کے ڈر سے سندھ میں راجہ داہر کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے حجاج جو کہ سیدوں کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اس نے راجہ داہر سے مطالبہ کیا سید زادے میرے دشمن ہیں لہذا انھیں میرے حوالے کرو لیکن راجہ داہر نے صاف صاف انکار کر دیا اوذ کہا کہ وہ میرے مہ...

عید میلادالنبی

تصویر
 عید میلادالنبی ہر سال بارہ ربیع الاول کو منائی جاتی ہےہر مسلمان اپنے نبی   ص  کی دنیا میں آمد پر خوشی مناتا ہے اور دل سے خیرات و صدقہ دیتا ہے۔پاکستان سمیت دنیاہبھر میں ہر مسلمان خوشی منا کر اپنے نبی  .  ص   کوخراج عقیدت پیش کرتا ہے اس میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آمد 9 ربیع الاول کو ہوئی اور کچھ سترہ ربیع الاول کو مناتے ہیں لیکن ذیادہ مسلمان بارہ کو ہی مناتے ہیں۔ عید میلادالنبی اور کچھ کا یہ کہنا ہے کہ آپ  ص .  کی ولادت اور وفات بارہ ربیع الاول کو ہی ہوئی لیکن وہ صرف خوشی ہی مناتے ہیں ۔دنیا بھر میں مسلمان رہتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ بارہ ربیع الاول کی رات کو محافل کا انعقاد کیا جاتا ہے چھوٹے بڑے اجتماع ہر جگہ ہوتے ہیں۔ہر مسلمان حسب توفیق حصہ ڈالتا ہے۔پھر دن کو جلوس نکالے جاتے ہیں لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیںنعرے لگاتے ہوئے عقیدت پیش کرتے ہیں۔اور پھر رات کو ثواب لے کر گھر چلے جاتے ہیں۔شروع میں ایسا نہیں ہوتا تھا لوگ صرف محفلیں کرواتے تھے دعائیں مانگتے نیازیں تقسیم کرتے تھے لیکن اب ماحول بدل گیا ہے اب سیاسی رنگ ذیادہ ہو گیا ہے۔ہلڑ با...

عمران خان

تصویر
 پاکستان کا سب سے بڑا سپر سٹار کرکٹ کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بریڈفورڈ یونیورسٹی کا چانسلر پاکستان کی سیاست میں تبدیلی لانے والا حکومتی ایوانوں سے پردے اتار کر پھینکنے والا۔عمران خان ایک پٹھان قبیلے نیازی میں 5 ستمبر 1952 کو لاہر میں پیدا ہوئے۔شروع سے ہی کرکٹ کا شوق تھا محلے والوں نے دوستوں نے کافی مذاق اڑایا اور سمجھایا کہ تم کرکٹر نہیں بن سکتے لیکن عمران خان نے زد بنا لی کہ کرکٹر ضرور بنوں گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس جیسا کرکٹر آج تک نہیں ہوا۔ عمران خان کرکٹ کھیلتے ہوئے پاکستان کو دنیا ئے کرکٹ کا بادشاہ بنا دیا۔کرکٹ سے فارغ ہو کر اس نے ضد لگائی کہ میں پاکستان میں کینسر ہسپتال بناؤنگا۔ایک بار پھر لوگوں نے روکا سمجھایا کہ یہ مذاق نہیں ہے اس کے لئے بہت سارا پیسہ چاہئے۔لیکن اس نے محنت کی دن رات پیسہ اکٹھا کیا اور ایک دن پاکستان میں کینسر ہسپتال بنا دیا ۔اور وہ ہسپتال ابھی تک چل رہا ہے۔پھر اس نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور اپنی پارٹی بنائی لیکن اس بار بھی لوگوں نے خوب سمجھایا اور روک بھی لیکن اس نے کہا کہ میں سیاست کروں گا۔مشرف کی طرف سے حکومت کی پیش کش کی  گئی لیکن خان نے ک...

پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟

تصویر
 ہم جب چھوٹے تھے مطلب جب پاکستان نیا نیا بنا تھا اس وقت ہمارے پیسے کی بہت ویلیو تھی ایک روپیہ چار ڈالر کا تھا ہمارے ہاں بھی چھوٹے پیسے ہوا کرتے تھے پنجابی میں ہم اسے ایک آنا دو انے وغیرہ کہتے تھے۔سولہ آنوں کا ایک روپیہ بنتا تھا اور وہ ایک روپیہ آج کا پانچ ہزار روپیہ بنتا ہے۔یہ سب ہوتے ہوئے اتنی ترقی سے اتنی جلدی تنزلی کیسے پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟ پاکستان میں مہنگائی کیوں ہوئی؟     آئیے ایک نظر دوڑاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ کھلواڑ کیوں ہوا؟ پاکستان بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہ انگریز کی چال تھی جس میں وہ کامیاب ہو گیا اور جو ہمارے لیڈر بنے ہوئے تھے مسلم لیگ کے سربراہ وہ جتنے بھی تھے انھیں صرف اپنے نام اور اپنے اقتدار کا لالچ تھا اسی وجہ سے تو وہ ملک کے لئے کچھ کر نہیں سکے وہ سارے اقتدار کے لئے لڑتے رہے اور لڑتے بھی گلی کے کتوں کی طرح تھے کوئی اصول کوئی طریقہ نہیں تھا۔صرف اپنے اقتدار اور حوس میں ڈوبے ہوئے تھے اور وہ ملک جس کی بنیادیں پہلے ہی سے کمزور تھیں اور بھی کمزور ہو گئیں۔لیکن کتوں کو گلی محلے کی حالت کا کوئی احساس نہیں ہوتا انھیں ...

پاکستانی بطور قوم

تصویر
آزادی کی جدو جہد میں مسلم  سکھ اور ہندو کندھے سے کندھا ملا کر اپنے ملک کے لئے لڑتے رہےاپنی جان اپنے مال غرض ہر چیز کی قربانی دی اور ایک ساتھ ہو کر قربانی دی۔ایسا نہیں تھا کہ الگ الگ تھے بلکہ اچھے خاصے تعلقات تھے اور اتنی قربانیوں اور انگریز سرکار کے ظلم اور سخت قوانین کے باوجود آزادی کی جدوجہد بڑھتی چلی گئی۔جس کے دل میں آزادی کی آگ تھی وہ لڑتا رہا۔ پاکستانی بطور قوم انگریز سرکار کو محسوس ہوا کہ یہ لوگ تو ایک ساتھ ہیں مذہب سب کا الگ ہے مگر مقصد ایک ہی ہے تو انھوں نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ ترکیب سوچی کہ ان میں پھوٹ ڈالی جائے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے ایک ہی راستہ تھا اور وہ تھا مذہب کا۔مسلمانوں کو یہ باور کروایا گیا کہ ہندو مسلمانوں سے الگ ہیں ان کا دھرم الگ ہے وہ بہت سے خداؤں کی پوجا کرتے ہیں مسلمان ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں ان سب باتوں کا اثر یہ ہوا کہ آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا اور آخر کار ہم ایک قوم کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرے۔نیا جوش نیا جذبہ نیا ملک اور وہ بھی اپنا ملک کیا بات ہے۔ جن لوگوں نے پاکستان کے لئے کوشش کی تھی ان میں اقتدار کا لالچ تھا اپنے نام کی غر...

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج

تصویر
 مہاراجہ رنجیت سنگھ ایک بہادر دلیر اور دور اندیش حکمران تھا بچپن ہی سے وہ اپنے والد مہان سنگھ کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیتا تھا اس کے باپ کے مرنے کے بعد وہ اپنی مسل سکر چکیہ کا سربراہ بنا۔اپنی دور اندیشی سوچنے طاقت اور بہادری سے وہ لڑتالڑاتا لاہور پہنچ گیا اور لاہور کا حاکم بن گیا رنجیت سنگھ کے روہب اور دبدبے کی وجہ سے سارے سکھ سردار آہستہ آہستہ اس کے کنٹرول میں آ گئے۔مہاراجہ نے جب پنجاب سلطنت وسیع و عریض کر دی اور سر حدیں بنائیں تو اس کی ملاقات انگریز سرکار کے وفد سے ہوئی مہاراجہ اپنے عقل کی وجہ سے چھپ کر انگریز فوج کا معائنہ کرنے کے لئے اس میں گھس گیا۔انگریز فوج کو قریب سے دیکھا انھیں پرکھا اور واپس آ گئے۔ مہاراجہ نے سب درباریوں سے مشورہ کیا کہ انگریز فوج جدید ہتھیار اور منظم نظام کے تحت لڑتی ہے اس کا کیا حل ہے۔مہاراجہ پٹیالہ نے مشورہ دیا کہ خالصہ فوج کو بھی جدید طرز کے تحت تیار کرنا چاہئیے۔اس مقصد کے لئے انگریز افسروں کی ضرورت تھی وہ پہلے ہی رنجیت سنگھ کا نام سن کر نوکری کی غرض سے پنجاب آئے ہوئے تھے بیس کے قریب یورپی افسر فوج میں بھرتی کئیےاور فوج کی ٹریننگ شروع ہو گئی۔ مہاراجہ کے ...

بابر اعظم کی ہٹ دھرمی

تصویر
 پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بلے باز بابر اعظم ایک محنتی  ٹیلنٹڈ اور قابل کھلاڑی ہیں انھوں نے کرکٹ کی دنیا میں ایک نام پیدا کیا ہے۔ان کی مسلسل کامیابی ان کی پرفارمنس انھیں کرکٹ ٹیم کی قیادت تک لے گئی۔آج بابر اعظم پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیں اور دنیا انھیں مانتی ہے کہ وہ اس لائق ہیں۔ دنیائے کرکٹ میں ایک بات مشہور ہے کہ ایک اچھا کھلاڑی اچھا کوچ نہیں بن سکتا تو ساتھ ہی ساتھ ایک اچھا کھلاڑی اچھا کپتان بھی نہیں بن سکتا۔بابر اعظم اس وقت پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمز کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز ہارنے کے بعد فارغ ہوئے ہیں۔بابر اعظم نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم کبھی ہار جاتے ہیں اور کبھی جیت جاتے ہیں یہ گیم کا حصہ ہے۔بھائی مان لیا کہ ہار جیت گیم کا حصہ ہے لیکن مسلسل ہارنا بھی کونسا حصہ ہے۔ بابر اعظم صاحب آپ نے ٹیم کو ورلڈکپ کے لئے آسٹریلیا لے کر جانا ہےجو ٹیم اپنے گراؤنڈز میں فلاپ ہے وہ آسٹریلیا جا کر کیا گھنٹہ کھیلیں گے۔اگر آپ لوگ دوستی یاری اور سفارشوں پہ کھلاڑیوں کو کھلائیں گے تو ایسا ہی ہوگا۔ آپ نے وہی میچ جیتا ہے جس میں آپ اور رضوان اچھا کھیل گئے۔ورنہ بابراعظم اور رضوان کے آؤٹ ہوتے ...

اگر انگریز نہ آتے تو؟

👀👩 پنجاب صدیوں سے حملہ آوروں کے حملے برداشت کر رہا تھا جیسے ہی پنجاب میں فصل کی کٹائی ہوتی عین اسی وقت پنجاب پہ حملہ ہوتا اور سب کچھ لٹ جاتا۔حملہ آوروں کے علاوہ جو حکمران بھی آئے وہ بھی صرف لگان لینے کی حد تک تھے عوام کے لئے کچھ نہ کر پائے۔نہ کوئی ہسپتال نہسکول کالج اور نہ کوئی اور محکمہ۔پنجاب کے ساتھ ہمیشہ ظلم اور ذیادتی ہوتی رہی۔۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریز سرکار نے پنجاب پر قبضہ کر لیا اور پنجاپ کے سارے مالیہ پر قبضہ کر لیا۔اور خزانے کو جیسے تیسے ہو سکا برطانیہ بھیجتے رہے۔انگریزوں کے یہاں آنے کےہمیں کچھ نقصان اور کچھ فائدے بھی ہوئے ہیں۔ آئیے سب سے پہلے ہم انگریزوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان دیکھتے ہیں۔ اگر انگریز نہ آتے تو ہندو اور مسلمان کبھی ایک دوسرے کے دشمن نہ بنتے انگریزوں نے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی اپنائی اور ہندوستانیوں کو آپس میں مذہبی فرقہ واریت نسلیت میں الجھا دیا۔یہ انجان لوگ اس چال کو سمجھ نہ سکے اور آپسی لڑائیوں کا شکار ہو گئے۔ دوسری بات یہ کہ اگر انگریز نہ آتے تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا اور نہ یہ کشمیر کا معاملہ شروع ہوتا اور نہ ہ...

پنجاب اور انگریزی سرکار

 مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سالوں کی محنت سے کھڑی کی ہوئی سلطنت اسی فوج کے ہاتھوں گرنے کے لئے تیار تھی جو فوج اس کی حفاظت کے لئے بنائی گئی تھی۔خالصہ فوج نے اپنے ہی ملک کو اور ملکی باشندوں کو لوٹنا شروع کر دیا تھا عام شہریوں کے ساتھ ساتھ خود شاہی خاندان بھی فوج سے تنگ تھا وہ کسی نہ کسی طرح اس فوج سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتےتھے مہارانی جنداں نے خالصہ فوج کو انگریزوں سے لڑوا کر اسے ختم کردیا لیکن اس کے ساتھ سات اپنے تخت وتاج کو بھی خطرہ محسوس ہونے لگا۔  انگریزوں کو بہانا چاہئیے تھا اور انگریز پنجاب میں داخل ہو گئے۔سب سے پہلے انھوں نے اپنے پیر جمانے کے لئے جو جاگیر دار تھے سرمایہ دار طبقہ تھا ان سے سب کچھ چھین لیا اور اپنی مرضی کے جاگیر دار اور تاجر بنائے۔عام شہری سے لے کر راجے اور نواب سب غنڈے گردانے لگے۔انگریزوں نے ہر شہر ہر قصبے میں پہرے لگوا دئیے یہاں تک کہ دریا سے گزرنے والے راستوں پر بھی انگریز افسر تعینات کئیے۔کسی پہ تھوڑا سا بھی شک ہوتا اسے فوراً  گرفتار کر لیا جاتا۔ انگریز سرکار کی اتنی سختی اور بے رحمی کے باوجود لوگ آزادی کے لئے اس بہادری اور شجاعت سے نکلے کہ ایک وقتمیں ا...